Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
138 - 695
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اے میرے رب! بچالے ،اے میرے رب ! بچالے، پکار رہے ہوں گے، تباہی اور خرابی کی پکار جہنم کی گہرائی سے تیری طرف آرہی ہوگی، کیونکہ بے شمار لوگ پل صراط سے پھسل چکے ہوں گے ،اس وقت اگر تیرا قدم بھی پھسل گیا تو کیا ہوگا…؟اس وقت ندامت بھی تجھے کوئی فائدہ نہ دے گی اور تو بھی ہائے خرابی، ہائے ہلاکت پکار رہا اور یوں کہہ رہا ہو گا کہ میں اسی دن سے ڈرتا تھا ،کاش !میں نے اپنی (اس) زندگی کے لیے کچھ آگے بھیجا ہوتا۔ کاش! میں رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بتائے ہوئے راستے پر چلا ہوتا۔ ہائے افسوس ! میں نے فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا ۔ کاش! میں مٹی ہو گیا ہوتا۔ کاش ! میں بھولا بسرا ہوجاتا۔ کاش! میری ماں نے ہی مجھے پیدا نہ کیا ہوتا۔ اس وقت آگ کے شعلے تجھے اچک لیں گے اور ایک منادی اعلان کردے گا’’اِخْسَـُٔوۡا فِیۡہَا وَ لَا تُکَلِّمُوۡنِ‘‘ دھتکارے ہوئے جہنم میں پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔(1) اب چیخنے چلانے، رونے، فریاد کرنے اور مدد مانگنے کے سوا تیرے پاس کوئی راستہ نہ ہوگا۔
	اے بندے! تو اس وقت تو اپنی عقل کو کس طرح دیکھتا ہے حالانکہ یہ تمام خطرات تیرے سامنے ہیں؟ اگر تیرا ان باتوں پر عقیدہ نہیں تو ا س سے معلوم ہوتا ہے کہ تو دیر تک (یعنی ہمیشہ کیلئے) کفار کے ساتھ جہنم میں رہنا چاہتا ہے اور اگر تو ان باتوں پر ایمان رکھتا ہے لیکن غفلت کا شکار ہے اور اس کے لیے تیاری میں سستی کا مظاہرہ کررہا ہے تواس میں تیرا نقصان اور سرکشی کتنی بڑی ہے۔ ایسے ایمان کا تجھے کیا فائدہ جو اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور اس کی نافرمانی چھوڑنے کے ذریعے تجھے اس کی رضا جوئی کی خاطر کوشش کی ترغیب نہیں دیتا، اگر بالفرض تیرے سامنے پل صراط سے گزرنے کے خوف سے پیدا ہونے والی دل کی دہشت کے سوا کچھ نہ ہو، اگرچہ تو سلامتی کے ساتھ ہی گزرجائے تو یہ ہولناک خوف اور رعب کیا کم ہے۔(2)
	امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مزید فرماتے ہیں: قیامت کے ہولناک حالات میں وہی شخص زیادہ محفوظ ہوگا جو دنیا میں اس کی فکر زیادہ کرے گا کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ ایک بندے پر دو خوف جمع نہیں کرتا، تو جو آدمی دنیا میں ان خوفوں سے ڈرا وہ آخرت کے دن ان سے محفوظ رہے گا، اور خوف سے ہماری مراد عورتوں کی طرح کا خوف نہیں ہے کہ سنتے وقت دل نرم ہوجائے اور آنسو جاری ہو پھر جلد ہی اسے بھول جاؤ اور اپنے کھیل کود میں مشغول ہوجاؤ ،کیونکہ اس بات کا خوف سے 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مومنون:۱۰۸۔
2…احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت ومابعدہ، الشطر الثانی، صفۃ الصراط، ۵/۲۸۵۔