ترجمۂکنزالایمان: تو تمہارے رب کی قسم ہم انھیں اور شیطانوں سب کو گھیر لائیں گے اور انہیں دوزخ کے آس پاس حاضر کریں گے گھٹنوں کے بل گرے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو تیرے رب کی قسم! ہم انہیں اور شیطانوں کو جمع کرلیں گے پھر انہیں دوزخ کے آس پاس اس حال میں حاضر کریں گے کہ گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے ۔
{فَوَرَبِّکَ لَنَحْشُرَنَّہُمْ:تو تمہارے رب کی قسم! ہم انہیں جمع کرلیں گے۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کے رب کی قسم! ہم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کرنے والے کافروں کو قیامت کے دن زندہ کر کے انہیں گمراہ کرنے والے شیطانوں کے ساتھ اس طرح جمع کرلیں گے کہ ہر کافر شیطان کے ساتھ ایک زنجیر میں جکڑا ہو گا ، پھر انہیں دوزخ کے آس پاس اس حال میں حاضر کریں گے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب کا مشاہدہ کر کے دہشت کے مارے ان سے کھڑا ہونا مشکل ہو جائے گا اور وہ گھٹنوں کے بل گرجائیں گے۔(1) اور کافروں کی ایسی ذلت و رسوائی دیکھ کر اللّٰہ تعالیٰ کے اولیاء اور سعادت مند بندے اس بات پر بہت خوش ہو رہے ہوں گے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں اس ذلت سے نجات عطا فرمائی جبکہ ان کے دشمن کفار ان کی سعادت و خوش بختی دیکھ کر حسرت و افسوس اور انہیں برابھلا کہنے پر خود کو ملامت کررہے ہوں گے۔
یاد رہے کہ قیامت کے دن لوگوں پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ اس دن کی شدت اور حساب کی سختی دیکھ کر ہر دین والا زانو کے بل گرا ہو گا، جیسا کہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
’’وَ تَرٰی کُلَّ اُمَّۃٍ جَاثِیَۃً‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تم ہر گروہ کو زانو کے بل گرے ہوئے دیکھو گے۔
اور ایک وقت ایسا آئے گا کہ کافروں کو جب جہنم کے قریب حاضر کیا جائے گا تو وہ اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب کا مشاہدہ کرکے گھٹنوں کے بل گر جائیں گے جیسا کہ زیرِتفسیر آیت میں بیان ہوا، تو ان دونوں آیات میں جدا جدا احوال کا بیان ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۶۸، ۳/۲۴۱-۲۴۲، روح البیان، مریم، تحت الآیۃ: ۶۸، ۵/۳۴۹۔
2…سورۂ جاثیہ:۲۸۔