Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
129 - 695
رہو کیا اس کے نام کا دوسرا جانتے ہو ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے سب کا رب (وہی ہے)تو اسی کی عبادت کرو اور اس کی عبادت پر ڈٹ جاؤ ،کیا تم اللّٰہ کا کوئی ہم نام جانتے ہو؟ 
{رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ:آسمانوں اور زمین کا رب۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے سب کا مالک آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ ہی ہے، آپ اسی کی عبادت کرتے رہیں اور اس کی عبادت پر ڈٹ جائیں ،کیا آپ اللّٰہ تعالیٰ کا کوئی ہم نام جانتے ہیں؟ یعنی کسی کو اس کے ساتھ نام کی شرکت بھی نہیں اور اس کی وحدانیت اتنی ظاہر ہے کہ مشرکین نے بھی اپنے کسی باطل معبودکا نام’’ اللّٰہ‘‘ نہیں رکھا ۔
	 اس آیت ِ مبارکہ میں فرمایا گیا کہ اس کی عبادت پر ڈٹ جاؤ، اس سے معلوم ہوا کہ خوشی و غم ہر حال میں ہمیشہ عبادت کرنی چاہیے ۔ یہی حکم ہے اور یہی بارگاہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں محبوب ہے، صرف خوشی یا صرف غم میں عبادت کرنا کمال نہیں۔ آیت میں اللّٰہ تعالیٰ کی صفت ِ ربوبیت بیان کرکے عبادت کا حکم دینے میں اِس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کا بندے کو پالنا، نعمتیں پہنچانا اور بَتَدریج مرتبۂ کمال تک پہنچانا بھی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ بندے احسان مندی کے طور پر اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ 
وَ یَقُوۡلُ الْاِنۡسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا ﴿۶۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور آدمی کہتا ہے کیا جب میں مرجاؤں گا تو ضرور عنقریب جِلا کر نکالا جاؤں گا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور آدمی کہتا ہے: کیا جب میں مرجاؤں گا تو عنقریب مجھے زندہ کرکے ضرور نکالا جائے گا؟ 
{وَ یَقُوۡلُ الْاِنۡسَانُ:اور آدمی کہتا ہے۔} اس آیت میں انسان سے مراد وہ کفار ہیں جو موت کے بعد زندہ کئے جانے کے منکر تھے جیسے اُبی بن خلف اور ولید بن مغیرہ اور اِن جیسے تمام کفار، اِنہیں لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ یہ کافر انسان مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا مذاق اڑاتے اور اسے جھٹلاتے ہوئے کہتا ہے کہ کیا جب میں