خود سے دور کر دے۔
(2)…اگر اپنے قریبی ساتھی کو خود سے دور کرے تو اسے دور کرنے کی وجہ بتا دے تاکہ اس کے پاس اعتراض کی کوئی گنجائش نہ رہے۔
اَمَّا السَّفِیۡنَۃُ فَکَانَتْ لِمَسٰکِیۡنَ یَعْمَلُوۡنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدۡتُّ اَنْ اَعِیۡبَہَا وَکَانَ وَرَآءَہُمۡ مَّلِکٌ یَّاۡخُذُ کُلَّ سَفِیۡنَۃٍ غَصْبًا ﴿۷۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: وہ جو کشتی تھی وہ کچھ محتاجوں کی تھی کہ دریا میں کام کرتے تھے تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں اور ان کے پیچھے ایک بادشاہ تھا کہ ہر ثابت کشتی زبردستی چھین لیتا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ جو کشتی تھی تووہ کچھ مسکین لوگوں کی تھی جو دریا میں کام کرتے تھے تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہرصحیح سلامت کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔
{اَمَّا السَّفِیۡنَۃُ:وہ جو کشتی تھی۔} حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے افعال کی حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے فرمایا ’’وہ جو میں نے کشتی کا تختہ اکھاڑا تھا، اس سے میرا مقصد کشتی والوں کو ڈبو دینا نہیں تھا بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کشتی دس مسکین بھائیوں کی تھی، ان میں پانچ تو اپاہج تھے جو کچھ نہیں کرسکتے تھے اور پانچ تندرست تھے جو دریا میں کام کرتے تھے اور اسی پر ان کے روزگار کا دارومدار تھا۔ ان کے آگے ایک بادشاہ تھا اور انہیں واپسی میں اس کے پاس سے گزرنا تھا، کشتی والوں کو اس کا حال معلوم نہ تھا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ہرصحیح سلامت کشتی کو زبردستی چھین لیتا اور اگر عیب دار ہوتی تو چھوڑ دیتا تھا اس لئے میں نے اس کشتی کو عیب دار کردیا تاکہ وہ ان غریبوں کے لئے بچ جائے۔(1)
آیت ’’اَمَّا السَّفِیۡنَۃُ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں:
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، الکہف، تحت الآیۃ: ۷۹، ۷/۴۹۰-۴۹۱، خازن، الکہف، تحت الآیۃ: ۷۹، ۳/۲۲۰-۲۲۱، ملتقطاً۔