کی میزبانی نہ کی جائے۔(1)
قَالَ ہٰذَا فِرَاقُ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنِکَ ۚ سَاُنَبِّئُکَ بِتَاۡوِیۡلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعۡ عَّلَیۡہِ صَبْرًا ﴿۷۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: کہا یہ میری اور آپ کی جدائی ہے اب میں آپ کو ان باتوں کا پھیر بتاؤں گا جن پر آپ سے صبر نہ ہوسکا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کہا: یہ میری اور آپ کی جدائی کا وقت ہے۔ اب میں آپ کو ان باتوں کا اصل مطلب بتاؤں گا جن پر آپ صبر نہ کرسکے۔
{قَالَ:کہا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی طرف سے تیسری مرتبہ اپنے فعل پر کلام سن کر حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ان سے فرمایا ’’ یہ میری اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی جدائی کا وقت ہے۔ اب میں جدا ہونے سے پہلے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو ان باتوں کا اصل مطلب بتاؤں گا جن پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامصبر نہ کرسکے اور اُن کے اندر جو راز تھے ان کا اظہار کردوں گا۔(2)
آیت’’قَالَ ہٰذَا فِرَاقُ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنِکَ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں:
(1)…اگر اپنا قریبی ساتھی یا ماتحت شخص کوئی ایسا کام کرے جس کی وجہ سے اسے خود سے دور کرنے کی صورت بنتی ہو تو فوراً اسے دور نہ کر دے بلکہ ایک یادو مرتبہ اسے معاف کر دیا جائے اور اس سے درگزر کیا جائے اور ساتھ میں مناسب تنبیہ بھی کر دی جائے تاکہ وہ اپنی کوتاہی یا غلطی پر آگاہ ہو جائے اور اگر وہ تیسری بار پھر وہی کام کرے تو اب چاہے تو اسے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الکہف، تحت الآیۃ: ۷۷، ۳/۲۲۰۔
2…مدارک، الکہف، تحت الآیۃ: ۷۸، ص۶۶۰، جمل، الکہف، تحت الآیۃ: ۷۸، ۴/۴۴۶، ملتقطاً۔