Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
102 - 695
ارشاد کیا  ’’رُدُّوْاعَلَیَّ اَبِیْ ‘‘ اور یہاں اَبِیْ سے حضرت عباس( رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ) مراد ہیں۔(1) لہٰذا ثابت ہوا کہ آیت میں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے باپ (آزر) سے ان کا چچا مراد ہے حقیقی والد مراد نہیں ہیں۔
یٰۤاَبَتِ اِنِّیۡ قَدْ جَآءَنِیۡ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاۡتِکَ فَاتَّبِعْنِیۡۤ اَہۡدِکَ صِرَاطًا سَوِیًّا ﴿۴۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: اے میرے باپ بیشک میرے پاس وہ علم آیا جو تجھے نہ آیا تو تُو میرے پیچھے چلا آ میں تجھے سیدھی راہ دکھاؤں۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے میرے باپ! بیشک میرے پاس وہ علم آیا جو تیرے پاس نہیں آیا تو تُو میری پیروی کر ،میں تجھے سیدھی راہ دکھادوں گا۔
{یٰۤاَبَتِ اِنِّیۡ قَدْ جَآءَنِیۡ مِنَ الْعِلْمِ:اے میرے باپ! بیشک میرے پاس وہ علم آیا۔} حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے آزر کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ بیشک میرے پاس میرے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے اس کی معرفت کا وہ علم آیا ہے جو تیرے پاس نہیں آیا، تو تُو میرا دین قبول کر کے میری پیروی کر ،میں تجھے سیدھی راہ دکھادوں گا جس سے تو اللّٰہ تعالیٰ کے قرب کی اس منزل تک پہنچ سکے گا جو مقصود ہے۔
	اس آیت میں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے جس علم کا ذکرہوا اس کے بارے میں ایک قول تفسیر میں ذکر ہوا کہ اس سے مراد اللّٰہ تعالیٰ کی معرفت کا علم ہے ، اور ایک قول یہ ہے کہ اس علم سے مراد وہ وحی ہے جو فرشتہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس لے کر آتا تھا ،،یا،، اس سے مراد آخرت کے اُمور اور اُخروی ثواب و عذاب کا علم ہے ،،یا،، اس سے مراد اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت اور صرف اللّٰہ تعالیٰ کے اِلٰہ ہونے اور صرف اسی کے عبادت کا مستحق ہونے کا علم ہے۔(2)اِن اَقوال میں باہم کوئی تَضاد نہیں ہے کہ حقیقت میں آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو یہ سارے علوم عطا کئے گئے۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خزائن العرفان، الانعام، تحت الآیۃ: ۷۴، ص۲۶۱۔
2…البحر المحیط، مریم، تحت الآیۃ: ۴۳، ۶/۱۸۲۔