ان کے باپ کا نام تارخ تھا اور دوسری زبانوں میں تارخ کو آزر بولا جاتا تھا، بعض کہتے ہیں کہ آزر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے باپ کا نام نہیں بلکہ قوم کے بڑے بت کا نام آزر تھا اور بعض کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے والد کا نام تارخ تھا جبکہ آزر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے چچا کا نام تھا اور بڑوں کی یہ عادت معروف تھی کہ وہ چچا کو باپ کہہ کر پکارتے تھے۔ اور یہ آخری بات ہی درست ہے کہ آزر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا حقیقی باپ نہیں بلکہ چچا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث پاک سے ثابت ہے کہ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نور پاک لوگوں کی پشتوں سے پاک عورتوں کے رحموں کی طرف مُنْتقل ہوا اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام چونکہ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے آباؤ اَجداد سے ہیں اس لئے آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حقیقی والد کفرو شرک کی نجاست سے آلودہ کیسے ہو سکتے ہیں، چنانچہ علامہ شہاب الدین محمود آلوسی بغدادی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ علمائِ اہلسنّت میں سے ایک جَمِّ غفیر کی رائے یہ ہے کہ آزر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا والد نہ تھا کیوں کہ حضور اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے آباؤ اجداد میں کوئی کافر نہ تھا، جیساکہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان ہے کہ’’ میں ابتداہی سے آخر تک پاک لوگوں کی پشتوں سے پاک خواتین کے رحموں میں مُنْتقل ہوتا چلا آیا ہوں جبکہ مشرک تونَجَس ہیں ۔اورامام رازی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کایہ کہنا کہ یہ شیعہ کامذہب ہے درست نہیں۔ امام رازی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اچھی طرح چھان بین نہیں کی اس لیے ان سے یہ غلطی ہوگئی۔ علمائِ اہلسنّت کی اکثریت کاقول یہ ہے کہ آزر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے چچا کا نام ہے اور ’’اَبْ‘‘ کا لفظ چچا کے معنی میں عام استعمال ہوتا ہے۔(1)
صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : قاموس میں ہے کہ آزر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ َالسَّلَام کے چچا کانام ہے۔ امام علامہ جلال الدین سیوطی(رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ )نے ’’مَسَالِکُ الْحُنَفَاءُ‘‘ میں بھی ایسا ہی لکھا ہے۔ چچا کو باپ کہنا تمام ممالک میں معمول ہے بالخصوص عرب میں، قرآنِ کریم میں ہے (جیسا کہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے) ’’نَعْبُدُ اِلٰہَکَ وَ اِلٰـہَ اٰبَآئِکَ اِبْرٰہٖمَ وَ اِسْمٰعِیۡلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰـہًا وَّاحِدًا‘‘ اس میں حضرت اسماعیل (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) کوحضرت یعقوب( عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام)کے آباء میں ذکر کیا گیا ہے باوجودیکہ آپ عَم (یعنی چچا) ہیں۔ حدیث شریف میں بھی حضرت سیّدِ عالَم صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہ وَسَلَّمَ نے حضرت عباس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کواَبْ (یعنی باپ) فرمایا، چنانچہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح المعانی، الانعام، تحت الآیۃ: ۷۴، ۴/۲۵۳۔