بعض آلات بیجان کا فقیر ومحتاج ہوکر اس فانی وزائل وبے حقیقت نام کے ایک ذرہ علم وقدرت سے (کہ وہ بھی اسی بارگاہ علیم وقدیر سے حصہ رسد چندروز سے چندروز کے لئے پائے اورا ب بھی اسی کے قبضہ واقتدار میں ہیں کہ بے اس کے کچھ کام نہ دیں) اگر صحرا سے ذرہ سمندر سے قطرہ معلوم کرلیا تو یہ آیاتِ کریمہ کے کس حرف کا خلاف ہوا؟
وہ خود فرماتاہے:
’’یَعْلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْۚ وَلَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنْ عِلْمِہٖۤ اِلَّا بِمَاشَآءَ‘‘ (1)
اللّٰہجانتاہے جوان کے آگے ہے اورجوکچھ پیچھے اوروہ نہیں پاتے اس کے علم سے کسی چیزکو مگرجتنی وہ چاہے۔
تمام جہان میں روزِ اول سے ابدالآباد تک جس نے جوکچھ جانا یا جانے گا سب اسی اِلَّا بِمَاشَآئَکے استثناء میں داخل ہے جس کے لاکھوں کروڑوں سربفلک کشیدہ پہاڑوں سے ایک نہایت قلیل وذلیل وبے مقدار ذرہ یہ آلہ بھی ہے، ایسا ہی اعتراض کرنا ہو تو بے گنتی گزشتہ وآئندہ باتوں کاجوعلم ہم کو ہے اسی سے کیوں نہ اعتراض کرے جو صیغہ ’’یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ‘‘ میں ہے کہ اللّٰہ جانتاہے جوکچھ مادہ کے پیٹ میں ہے بعینہٖ وہی صیغہ’’یَعْلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ‘‘ میں ہے کہ اللّٰہ جانتاہے جوکچھ گزرا اورجوکچھ ان کے پیچھے ہے۔ جب ان بے شمار علوم تاریخی وآسمانی ملنے میں کسی عاقل منصف کے نزدیک اس آیت کاکچھ خلاف نہ ہوا ،نہ تیرہ سوبرس سے آج تک کسی پادری صاحب کوان علوم کے باعث اس آیۃ کریمہ پرلب کشائی کاجنون اچھلا تواب ایک ذرا سی آلیا نکال کر اس آیت کا کیا بگاڑ متصور ہوسکتا ہے، ہاں عقل نہ ہو تو بندہ مجبور ہے یاانصاف نہ ملے تو انکھیارا بھی کور ہے ۔ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاﷲِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمْ۔ (2)
نوٹ:علومِ ارحام سے تعلق رکھنے والی آیات سے متعلق مزید تفصیل جاننے کے لئے فتاویٰ رضویہ کی 26ویں جلد میں موجود رسالہ ’’اَلصَّمْصَام عَلٰی مُشَکِّکٍ فِیْ اٰیَۃِ عُلُوْمِ الْاَرْحَام‘‘ (علوم ارحام سے متعلق آیات کی تفسیر)کا مطالعہ فرمائیں۔
{وَکُلُّ شَیۡءٍ عِنۡدَہٗ بِمِقْدَارٍ:اور ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے۔} یعنی ہر چیز کی ایک مقدار ہے اور کوئی چیز اپنی مقدار سے کم یا زیادہ نہیں ہوسکتی۔ (3) یہی مضمون قرآنِ پاک کی اور آیات میں بھی بیان ہوا ہے جیساکہ سورۂ قمر میں ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بقرہ:۲۵۵۔
2…فتاویٰ رضویہ، ۲۶/۴۷۰-۴۷۱۔
3…مدارک، الرعد، تحت الآیۃ: ۸،ص۵۵۱۔