ترجمۂکنزُالعِرفان: جیسے ہمارے ان رسولوں کا طریقہ رہا جنہیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا اور تم ہمارے قانون میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے۔
{ سُنَّۃَ: طریقہ۔} گزشتہ آیت میں فرمایا تھا کہ اگر بالفرض یہ آپ کو نکال دیتے تو آپ کے بعد یہ بھی جلد ہلاک کردیئے جاتے کیونکہ نبی عَلَیْہِ السَّلَامکے تشریف لے جانے کے بعد عذابِ الٰہی آجا تا ہے جیسے ہمارا ان رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں طریقہ رہا جنہیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا کہ جس قوم نے انہیں ان کے وطن سے نکالا( اور وہاں کوئی مسلمان باقی نہ رہا اور ان لوگوں کے ایمان لانے کی بھی کوئی امید نہ رہی) تو ہم نے اس قوم کو ہلاک کردیا اور تم ہمارے اِس قانون میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے۔(1) اہلِ مکہ کی بچت کی وجہ یہ رہی کہ وہاں مسلمان بھی باقی رہے اور وہاں خانہ کعبہ تھا اسی لئے اس علاقے کو بہرحال اسلامی حدود میں آنا تھا اور وہاں کے لوگوں کے بارے میں ایمان کی امید قوی بھی موجود تھی۔
اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوۡکِ الشَّمْسِ اِلٰی غَسَقِ الَّیۡلِ وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِکَانَ مَشْہُوۡدًا ﴿۷۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: نماز قائم رکھو سورج ڈھلنے سے رات کی اندھیری تک اور صبح کا قرآن بیشک صبح کے قرآن میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: نماز قائم رکھو سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک اور صبح کا قرآن ،بیشک صبح کے قرآن میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔
{اَقِمِ الصَّلٰوۃَ: نماز قائم رکھو۔} اس آیت میں فرمایا کہ نماز قائم رکھو سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک ۔ اس دورانیے میں چار نمازیں آگئیں: ظہر، عصر، مغرب، عشاء، کیونکہ یہ چاروں نمازیں سورج ڈھلنے سے رات گئے تک پڑھی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۷۷، ۳/۱۸۵، ملخصاً۔