Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
492 - 601
ایسا نہ ہوا بلکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کو ثابت قدم رکھا اور اگربالفرض ایسا ہوتا کہ آپ ان کی طرف جھکتے تو ہم تمہیں دنیوی زندگی میں دگنی سزا اور موت کے بعد دگنی سزا کا مزہ چکھاتے کیونکہ حضور پُرنورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مرتبہ دوسروں سے بلند تر ہے اس لئے آپ سے پاکیزگی اور کردار میں عظمت کا تقاضا بھی دوسروں کی بنسبت زیادہ ہے۔
وَ اِنۡ کَادُوۡا لَیَسْتَفِزُّوۡنَکَ مِنَ الۡاَرْضِ لِیُخْرِجُوۡکَ مِنْہَا وَ اِذًا لَّا یَلْبَثُوۡنَ خِلٰفَکَ اِلَّاقَلِیۡلًا ﴿۷۶﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور بیشک قریب تھا کہ وہ تمہیں اس زمین سے ڈگا دیں کہ تمہیں اس سے باہر کردیں اور ایسا ہوتا تو وہ تمہارے پیچھے نہ ٹھہرتے مگر تھوڑا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک قریب تھا کہ وہ تمہیں اس سر زمین سے پھسلا دیں تاکہ تمہیں اس سے نکال دیں اور اگر ایسا ہوتا تو وہ تمہارے پیچھے تھوڑی ہی مدت ٹھہرتے۔ 
{لِیُخْرِجُوۡکَ مِنْہَا: کہ تمہیں اس سے نکال دیں۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ کفار نے آپس میں اتفاق کرکے چاہا کہ سب مل کر رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو سرزمینِ عرب سے باہر نکال دیں لیکن اللّٰہ تعالیٰ نے ان کا یہ ارادہ پورا نہ ہونے دیا اور اُن کی یہ مراد بر نہ آئی۔ اس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی(1)اور فرما دیا گیا کہ ان لوگوں نے آپ کو یہاں سے نکالنے کا منصوبہ بنایا مگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ایسا نہ ہونے دیا اور اگر بالفرض یہ آپ کو نکال دیتے تو آپ کے بعد یہ بھی جلد ہلاک کردیئے جاتے کیونکہ نبی عَلَیْہِ السَّلَامکے تشریف لے جانے کے بعد عذابِ الٰہی آجا تا ہے۔
سُنَّۃَ مَنۡ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنۡ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیۡلًا ﴿٪۷۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: دستور ان کا جو ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے اور تم ہمارا قانون بدلتا نہ پاؤ گے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۷۶، ۳/۱۸۵۔