مجبور ہیں کیونکہ ان کی فطرت ہی یہ ہے ،ان میں عقل توہے لیکن شہوت نہیں اور جانوروں میں شہوت ہے لیکن عقل نہیں جبکہ آدمی میں شہوت و عقل دونوں ہیں تو جس نے عقل کو شہوت پر غالب کیا وہ فرشتوں سے افضل ہے اور جس نے شہوت کو عقل پر غالب کیا وہ جانوروں سے بدتر ہے۔(1)
یَوْمَ نَدْعُوۡا کُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِہِمْ ۚ فَمَنْ اُوۡتِیَ کِتٰبَہٗ بِیَمِیۡنِہٖ فَاُولٰٓئِکَ یَقْرَءُوۡنَ کِتٰبَہُمْ وَ لَا یُظْلَمُوۡنَ فَتِیۡلًا ﴿۷۱﴾ وَمَنۡ کَانَ فِیۡ ہٰذِہٖۤ اَعْمٰی فَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ اَعْمٰی وَ اَضَلُّ سَبِیۡلًا ﴿۷۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے تو جو اپنا نامہ داہنے ہاتھ میں دیا گیا یہ لوگ اپنا نامہ پڑھیں گے اور تاگے بھر ان کا حق نہ دبایا جائے گا۔ اور جو اس زندگی میں اندھا ہو وہ آخرت میں اندھا ہے اور اور بھی زیادہ گمراہ ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یاد کروجس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے تو جسے اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ لوگ اپنا نامہ اعمال پڑھیں گے اور ان پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ اور جو اس زندگی میں اندھا ہوگا وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا اور وہ زیادہ گمراہ ہوگا۔
{یَوْمَ نَدْعُوۡا: جس دن ہم بلائیں گے۔} ارشاد فرمایا کہ یاد کرو جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے جس کی وہ دنیا میں پیروی کرتا تھا۔ حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا: اس سے مراد وہ پیشوا ہے جس کی دعوت پر دنیا میں لوگ چلے خواہ اس نے حق کی دعوت دی ہو یا باطل کی۔(2) خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ہر قوم اپنے سردار کے پاس جمع ہوگی جس کے حکم پر دنیا میں چلتی رہی اور اُنہیں اُسی کے نام سے پکارا جائے گا کہ اے فلاں کے پیروکارو!۔(3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، الاسراء، تحت الآیۃ: ۷۰، ص۶۳۱۔
2…خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۷۱، ۳/۱۸۳۔
3…مدارک، الاسراء، تحت الآیۃ: ۷۱، ص۶۳۲، ملخصاً۔