البتہ جو غیر مستحق ہے اسے نہ دینے کا حکم ہے چنانچہ فتاویٰ رضویہ میں ہے گدائی تین قسم ہے: ایک غنی مالدار جیسے اکثر جوگی اور سادھو بچّے، انھیں سوال کرنا حرام اور انھیں دینا حرام، اور اُن کے دئیے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوسکتی، فرض سر پر باقی رہے گا۔ دوسرے وہ کہ واقع میںفقیر ہیں، قدرِ نصاب کے مالک نہیں مگر قوی و تندرست کسب پر قادر ہیں اور سوال کسی ایسی ضرورت کے لیے نہیں جوان کے کسب سے باہر ہو، کوئی حرفت یا مزدوری نہیں کی جاتی مفت کا کھانا کھانے کے عادی ہیں اور اس کے لیے بھیک مانگتے پھرتے ہیں انھیں سوال کرنا حرام، اور جو کچھ انھیں اس سے ملے وہ ان کے حق میں خبیث۔ انھیں بھیک دینا منع ہے کہ معصیت پر اعانت ہے، لوگ اگر نہ دیں تو مجبور ہوں کچھ محنت مزدوری کریں۔ مگر ان کے دئیے سے زکوٰۃ ادا ہوجائیگی جبکہ اور کوئی مانع شرعی نہ ہو کہ فقیر ہیں۔ تیسرے وہ عاجز نا تواں کہ نہ مال رکھتے ہیں نہ کسب پر قدرت، یا جتنے کی حاجت ہے اتنا کمانے پر قادر نہیں، انھیں بقدرِ حاجت سوال حلال، اور اس سے جو کچھ ملے ان کے لیے طیّب، اور یہ عمدہ مصارفِ زکوٰۃ سے ہیں اور انھیں دینا باعث ِاجر ِعظیم، یہی ہیں وہ جنھیں جھڑکنا حرام ہے۔(1)
وَلَا تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوۡلَۃً اِلٰی عُنُقِکَ وَ لَا تَبْسُطْہَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوۡمًا مَّحْسُوۡرًا ﴿۲۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ پورا کھول دے کہ تو بیٹھ رہے ملامت کیا ہوا تھکا ہوا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھو اور نہ پورا کھول دو کہ پھر ملامت میں، حسرت میں بیٹھے رہ جاؤ۔
{وَلَا تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوۡلَۃً اِلٰی عُنُقِکَ:اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھو۔} اس آیت میں خرچ کرنے میں اِعتدال کو ملحوظ رکھنے کا فرمایا گیا ہے اور اسے ایک مثال سے سمجھایا گیا کہ نہ تو اس طرح ہاتھ روکو کہ بالکل خرچ ہی نہ کرو اور یہ معلو م ہو گویا کہ ہاتھ گلے سے باندھ دیا گیا ہے اور دینے کے لئے ہل ہی نہیں سکتا ، ایسا کرنا تو سبب ِملامت
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…فتاوی رضویہ، کتاب الزکوۃ، ۱۰/۲۵۳-۲۵۴۔