Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
449 - 601
ہوتا ہے کہ بخیل کنجوس کو سب لوگ برا کہتے ہیں اور نہ ایسا ہاتھ کھولو کہ اپنی ضروریات کے لئے بھی کچھ باقی نہ رہے کہ اس صورت میں آدمی کو پریشان ہوکر بیٹھنا پڑتا ہے۔ اِس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں یہ روایت ہے کہ ایک مسلمان عورت کے سامنے ایک یہودیہ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سخاوت کا بیان کیا اور اس میں اس حد تک مُبالغہ کیا کہ حضور سرورِ کائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ترجیح دیدی اور کہا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سخاوت اس اِنتہا پر پہنچی ہوئی تھی کہ اپنی ضروریات کے علاوہ جو کچھ بھی اُن کے پاس ہوتا سائل کو دے دینے سے دریغ نہ فرماتے ،یہ بات مسلمان خاتون کو ناگوار گزری اور اُنہوں نے کہا کہ انبیائِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسب صاحبِ فضل و کمال ہیں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے جودونَوال میں کچھ شُبہ نہیں لیکن ہمارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مرتبہ سب سے اعلیٰ ہے اور یہ کہہ کر اُنہوں نے چاہا کہ یہود یہ کو سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے جودو کرم کی آزمائش کرا دی جائے چنانچہ انہوں نے اپنی چھوٹی بچی کو حضورِ اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں اس لئے بھیجا کہ ان سے قمیص مانگ لائے اُس وقت حضور اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے پاس ایک ہی قمیص تھی جو زیب ِتن تھی، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے وہی اُتار کر عطا فرمادی اور اپنے دولت سرائے اقدس میں تشریف رکھی، شرم سے باہر تشریف نہ لائے یہاں تک کہ اذان کا وقت آیا ،اذان ہوئی صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے انتظار کیا ،حضورِاقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف نہ لائے تو سب کو فکر ہوئی ۔ حال معلوم کرنے کے لئے دولت سرائے اقدس میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ جسم مبارک پر قمیص نہیں ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(1)
	نوٹ:یاد رہے کہ اس آیت میں خطاب اگرچہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے ہے لیکن مراد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی امت ہے۔
اِنَّ رَبَّکَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ ؕ اِنَّہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیۡرًۢا بَصِیۡرًا ﴿٪۳۰﴾
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: ۲۹، ۵/۱۵۱-۱۵۲، خزائن العرفان، بنی اسرائیل، تحت الآیۃ: ۲۹، ص۵۳۱، ملتقطاً۔