Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
431 - 601
ہی گمراہ ہوا اور کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی اور ہم کسی کو عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کوئی رسول نہ بھیج دیں۔
{مَنِ اہۡتَدٰی: جس نے ہدایت پائی۔} ان آیات کا مَنشا یہ ہے کہ انسان کو اپنی ہدایت و نیک اعمال کا بدلہ ضرور ملے گا، یہ نہ ہو گا کہ نیکی تو یہ کرے اور جزا کسی اور کو دے دی جائے اور یہ خود محروم رہے، ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ اس کی نیکی سے دوسرے کو بھی فائدہ پہنچ جائے جیسے ایصالِ ثواب یا صدقہ جاریہ وغیرہ کی صورت میں ہوتا ہے۔ یونہی آدمی کے بہکنے کا گناہ اور وبال بھی اسی پرہوگا ، یہ نہیں ہوگا کہ ایک آدمی دوسروں کے گناہوں کا بوجھ اٹھائے، ہاں جہاں تک گناہ کی ترغیب دینے کا یا اس کے اَسباب مُہَیّا کرنے کا تعلق ہے تو اس کا گناہ بہرحال اپنی جگہ ملے گا، چنانچہ قرآنِ پاک میں ہے
’’وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَہُمْ وَاَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِہِمْ‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور بیشک ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اوراپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ اٹھائیں گے۔
	اور فرماتا ہے
’’وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیۡنَ یُضِلُّوۡنَہُمۡ بِغَیۡرِ عِلْمٍ ‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور کچھ ان لوگوں کے گناہوں کے بوجھ اٹھائیں جنہیں اپنی جہالت سے گمراہ کررہے ہیں۔ 
بہر حال آیات کا آپس میں تَعارُض نہیں۔
{وَمَاکُنَّا مُعَذِّبِیۡنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوۡلًا:اور ہم کسی کو عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کوئی رسول نہ بھیج دیں۔} ارشاد فرمایا کہ ہم جس کو بھی سزا دیتے ہیں اس کی ہدایت کے اسباب مہیا ہونے کے بعد اور پھر اس آدمی کے جان بوجھ کر حق سے انکار کرنے کے بعد ہی سزا دیتے ہیں چنانچہ پہلے ہم رسول بھیجتے ہیں جو اُمت کو اس کے فرائض سے آگا ہ فرماتا ہے اور راہِ حق ان پر واضح کرتا ہے اور حجت قائم فرماتاہے پھر جب لوگ رسول کی نافرمانی کرتے ہیں تو ہم انہیں عذاب دیتے ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…عنکبوت:۱۳۔
2…نحل:۲۵۔