ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہر انسان کی قسمت ہم نے اس کے گلے میں لگادی ہے اور ہم اس کیلئے قیامت کے دن ایک نامۂ اعمال نکالیں گے جسے وہ کھلا ہوا پائے گا۔( فرمایا جائے گا کہ) اپنا نامۂ اعمال پڑھ، آج اپنے متعلق حساب کرنے کیلئے تو خود ہی کافی ہے۔
{فِیْ عُنُقِہٖ: اس کی گردن میں۔} یعنی جو کچھ کسی بھی آدمی کے لئے مقدر کیا گیا ہے، اچھا یا برا، نیک بختی یا بدبختی وہ اس کو اس طرح لازم ہے اور ہر وقت اس طرح اس کے ساتھ رہے گی جیسے گلے کا ہار کہ آدمی جہاں جاتا ہے وہ ساتھ رہتا ہے، کبھی جدا نہیں ہوتا۔(1) امام مجاہد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے کہا کہ ہر انسان کے گلے میں اس کی سعادت یا شقاوت کا نَوِشْتہ ڈال دیا جاتا ہے۔(2) پھر جب قیامت کا دن آئے گا تو آدمی کا نامۂ اعمال کھول کر اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا اور اس کے بعد کا مرحلہ اگلی آیت میں بیان فرمایا گیا ہے کہ اس سے فرمایا جائے گا: اپنا نامۂ اعمال پڑھ، آج اپنے متعلق حساب کرنے کیلئے تو خود ہی کافی ہے۔
مَنِ اہۡتَدٰی فَاِنَّمَا یَہۡتَدِیۡ لِنَفْسِہٖ ۚ وَمَنۡ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیۡہَا ؕ وَلَاتَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَاُخْرٰی ؕ وَمَاکُنَّا مُعَذِّبِیۡنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوۡلًا ﴿۱۵﴾
ترجمۂکنزالایمان:جو راہ پر آیا وہ اپنے ہی بھلے کو راہ پر آیا اور جو بہکا تو اپنے ہی برے کو بہکا اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی اور ہم عذاب کرنے والے نہیں جب تک رسول نہ بھیج لیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جس نے ہدایت پائی اس نے اپنے فائدے کیلئے ہی ہدایت پائی اور جو گمراہ ہوا تو اپنے نقصان کو
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الاسرائ، تحت الآیۃ: ۱۳، ۳/۱۶۸، ملخصاً۔
2…جلالین، الاسرائ، تحت الآیۃ: ۱۳، ص۲۳۱۔