اور رات ہیں، چنانچہ فرمایا کہ ہم نے رات کی نشانی کو مٹا ہوا بنایا یعنی رات کو تاریک بنایا کہ اس میں ہر چیز چھپ جاتی ہے اور تاریک بنانے کا مقصد یہ ہے کہ اس میں آرام کیا جائے جبکہ دن کو روشن بنایا تاکہ اس میں سب چیزیں نظریں آئیں اور تم اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا فضل یعنی اپنی روزی آسانی سے کما سکو۔(1)
آیت’’لِتَبْتَغُوۡا فَضْلًا مِّنۡ رَّبِّکُمْ ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں:
(1)…بیکار رہنا اورکمائی نہ کرنا بہت نامناسب ہے، اللّٰہ تعالیٰ نے ہاتھ پاؤں برتنے کو دئیے ہیں ا س لئے انہیں بیکار نہیں کرنا چاہیے۔ اس سے ان لوگوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو ہاتھ پاؤں اور دیگر جسمانی اَعضا سلامت ہونے اور کمائی کرنے پر قدرت رکھنے کے باوجود اپنوں یا پرایوں سے مانگ کر گزارہ کرتے ہیں۔
(2)… رزق حقیقت میں اللّٰہ تعالیٰ کا فضل ہے، مَحض ہماری کمائی کا نتیجہ نہیں، اس لئے ہر ایک کو چاہئے کہ وہ اپنے ہنر و کمال پر ناز نہ کرے بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت پر نگاہ رکھے۔اپنی محنت کر کے اللّٰہ تعالیٰ کے فضل پر نگاہ رکھنا ہی تَوکّل ہے۔
{لِتَعْلَمُوۡا عَدَدَ السِّنِیۡنَ وَالْحِسَابَ: تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب جان لو۔} یعنی رات اور دن کی تخلیق کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ رات اوردن کے دورے سے تم دنوں کا حساب بناتے ہو، پھر دنوں سے ہفتے اور مہینے اورپھر سال بنتے ہیں تو گویا یہ نظام تمہاری زندگی کو سہولتیں فراہم کرنے کیلئے ہے اور اسی دن رات کی تبدیلی سے تم دینی و دنیوی کاموں کے اوقات کاحساب لگاتے ہو۔(2)
{وَکُلَّ شَیۡءٍ فَصَّلْنٰہُ تَفْصِیۡلًا:اور ہم نے ہر چیز کوخوب جدا جدا تفصیل سے بیان کردیا۔} یعنی ہم نے قرآن میں ہر چیز کو تفصیل سے بیان فرمادیا خواہ اس کی حاجت تمہیں دین میں ہو یا دنیا کے کاموں میں ۔ مقصد یہ ہے کہ ہرایک چیز کی تفصیل بیان فرمادی جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد فرمایا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، الاسرائ، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۶۱۸، جلالین، الاسرائ، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۲۳۱، ملتقطاً۔
2…روح البیان، الاسرائ، تحت الآیۃ: ۱۲، ۵/۱۳۹، ملخصاً۔