کے وہ اَحوال بیان کئے گئے ہیں جو دیگر سورتوں میں بیان نہیں ہوئے، اس مناسبت سے ا س سورت کو’’بنی اسرائیل‘‘ کہتے ہیں اور یہی اس کا مشہور نام ہے۔
سورۂ بنی اسرائیل کے فضائل:
اس سورت کے فضائل پر مشتمل دو اَحادیث ملاحظہ فرمائیں:
(1) …حضرت عبداللّٰہ بن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’سورۂ بنی اسرائیل، سورۂ کہف اور سورۂ مریم فصاحت و بلاغت میں انتہائی کمال کو پہنچی ہوئی ہیں اور ایک عرصہ ہوا کہ میں نے انہیں زبانی یاد کر لیا تھا۔(1)
(2) …حضرت عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہافرماتی ہیں ’’نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاس وقت تک اپنے بستر پر نیند نہیں فرماتے تھے جب تک سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ زُمر کی تلاوت نہ کر لیں۔(2)
سورۂ بنی اسرائیل کے مَضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں دینِ اسلام کے عقائد جیسے توحید، رسالت، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور قیامت کے دن اعمال کی جزا اور سزا ملنے پر زور دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مشرکین کے کثیر شُبہات کا اِزالہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس سورت میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں۔
(1) …اس کی پہلی آیت میں سیّد المرسَلینصَلَّیاللّٰہُ تَعَالٰیعَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے عظیم معجزے معراج کا ایک حصہ بیان کیا گیا ہے کہ تاجدارِ رسالتصَلَّیاللّٰہُ تَعَالٰیعَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ رات کے مختصر حصے میں مکۂ مکرمہ سے بیتُ المقدس تشریف لے گئے اور یہ معجزہ اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت کی اور بارگاہِ الٰہی میں نبی کریم صَلَّیاللّٰہُ تَعَالٰیعَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی عزت و تکریم کی روشن ترین دلیل ہے۔
(2) …بنی اسرائیل کے مُفَصّل حالات بیان کئے گئے۔
(3) … یہ بیان کیاگیا ہے کہ جو نیک اعمال کرے اور سیدھی راہ پر آئے اس میں اس کا اپنا ہی بھلا ہے اور جو برے اعمال
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ بنی اسرائیل، ۳/۲۵۸، الحدیث: ۴۷۰۸۔
2…ترمذی، کتاب فضائل القرآن، ۲۱-باب، ۴/۴۲۲، الحدیث: ۲۹۲۹۔