Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
406 - 601
پارہ نمبر…15
سورۂ بنی اسرائیل
سورۂ بنی اسرائیل کا تعارف
مقامِ نزول:
	حضرت قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ یہ سورت ’’وَ اِنۡ کَادُوۡا لَیَفْتِنُوۡنَکَ‘‘ سے لے کر ’’نَصِیۡرًا‘‘ تک آٹھ آیتوں کے علاوہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔(1)علامہ بیضاوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جَزم کیا(یعنی یقین کے ساتھ لکھا) ہے کہ پوری سورت ہی مکۂ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔(2)
آیات،کلمات اورحروف کی تعداد:
	اس سورت میں 12 رکوع ، 111 آیتیں، 533 کلمات اور 3460 حروف ہیں۔(3)
سورۂ بنی اسرائیل کے اَسماء اور ان کی وجہِ تَسْمِیَہ:
	اس سورۂ مبارکہ کے چند نام ہیں:
(1)…سورۂ اِسراء۔ اسراء کا معنی ہے رات کوجانا، اور اس سورت کی پہلی آیت میں تاجدارِ رسالتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے رات کے مختصر حصے میں مکۂ مکرمہ سے بیتُ المقدس جانے کاذکر ہے اس مناسبت سے اسے’’ سورۂ اِسراء ‘‘ کہتے ہیں۔
(2)…سورۂ سبحان۔ سبحان کا معنی ہے پاک ہونا، اور اس سور ت کی ابتداء لفظِ ’’سبحان ‘‘ سے کی گئی اس مناسبت سے اسے’’ سورۂ سبحان ‘‘کہتے ہیں۔
(3)…بنی اسرائیل۔ اسرائیل کا معنی ہے اللّٰہ تعالیٰ کا بندہ، یہ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ہے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد کو ’’بنی اسرائیل ‘‘کہتے ہیں، اس سورت میں بنی اسرائیل کے عروج و زوال اور عزت و ذلت
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، تفسیر سورۃ الاسراء، ۳/۱۵۳۔
2…بیضاوی مع حاشیۃ الشہاب، سورۃ بنی اسرائیل، ۶/۳، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت۔
3…خازن، تفسیر سورۃ الاسرائ، ۳/۱۵۳۔