صبر سب سے اچھا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر تم (کسی کو)سزا دینے لگو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہو اور اگر تم صبر کرو تو بیشک صبر والوں کیلئے صبر سب سے بہتر ہے۔
{وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ:اور اگر تم سزا دینے لگو۔} یعنی اگر تم کسی کوسزا دینے لگو تو وہ سزا جرم کے حساب سے ہو، اُس سے زیادہ نہ ہو اور اگر تم صبر کرو اور انتقام نہ لو تو بیشک صبر والوں کیلئے صبر سب سے بہتر ہے۔ شانِ نزول: جنگ ِاُحد میں کفار نے مسلمانوں کے شُہداء کے چہروں کو زخمی کرکے اُن کی شکلوںکو تبدیل کیا تھا ، اُن کے پیٹ چاک کئے اور ان کے اعضاء کاٹے تھے ، ان شہداء میں حضرت حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی تھے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جب انہیں دیکھا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بہت صدمہ ہوا اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے قسم کھائی کہ ایک حضرت حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بدلہ ستر کافروں سے لیا جائے گا اور ستر کا یہی حال کیا جائے گا۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی توحضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے وہ ارادہ ترک فرمایا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیا۔ یاد رہے کہ مُثلہ یعنی ناک کان وغیرہ کاٹ کر کسی کی ہَیئت کو تبدیل کرنا شریعت میں حرام ہے۔(1)
وَ اصْبِرْ وَمَا صَبْرُکَ اِلَّا بِاللہِ وَلَا تَحْزَنْ عَلَیۡہِمْ وَلَا تَکُ فِیۡ ضَیۡقٍ مِّمَّا یَمْکُرُوۡنَ ﴿۱۲۷﴾ اِنَّ اللہَ مَعَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّالَّذِیۡنَ ہُمۡ مُّحْسِنُوۡنَ ﴿۱۲۸﴾٪
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۱۲۶، ص۶۱۴، جلالین، النحل، تحت الآیۃ: ۱۲۶، ص۲۲۸، ملتقطاً۔