(5)…عام شخص کسی قاضی (یعنی شریعت کے مطابق فیصلے کرنے والے جج) ،مفتی یا مشہور و معرو ف عالم کو امر بالمعروف نہ کرے کہ یہ بے ادبی ہے۔ اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ لوگ کسی خاص مصلحت کی وجہ سے ایک فعل کرتے ہیں، جس تک عوام کی نظر نہیں پہنچتی اور یہ شخص سمجھتا ہے، کہ جیسے ہم نے کیا انھوں نے بھی کیا، حالانکہ دونوںمیں بہت فرق ہوتا ہے۔ یہ حکم ان علما کے بارے میں ہے، جو احکامِ شرع کے پابند ہیں اور اتفاقاً کبھی ایسی چیز ظاہر ہوئی جو عوام کی نظر میں بری معلوم ہوتی ہے۔ وہ لوگ مراد نہیں جو حلال و حرام کی پروا نہیں کرتے اور نامِ علم کو بدنام کرتے ہیں۔
(6)… جس نے کسی کو برا کام کرتے دیکھا اور خود یہ بھی اس برے کام کو کرتا ہے تو اس برے کام سے منع کردے کیونکہ اس کے ذمہ دو چیزیں واجب ہیں برے کام کو چھوڑنا اور دوسرے کو برے کام سے منع کرنا اگر ایک واجب کا تارک ہے تو دوسرے کا کیوں تارک بنے۔
نوٹ: مزید معلومات کے لئے بہار شریعت جلد 3حصہ 16سے ’’امر بالمعروف‘‘ کا بیان مطالعہ فرمائیں۔(1)
{اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعْلَمُ:بیشک تمہارا رب اسے خوب جانتا ہے ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّیاللّٰہُ تَعَالٰیعَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کی ذمہ داری صرف لوگوں تک اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کا پیغام پہنچانا اور ان تین طریقوں سے دینِ اسلام کی دعوت دینا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ گمراہ ہونے والوں اور ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے اور وہ ہر ایک کو ا س کے عمل کی جزا دے گا۔(2)
وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوۡا بِمِثْلِ مَا عُوۡقِبْتُمۡ بِہٖ ؕ وَلَئِنۡ صَبَرْتُمْ لَہُوَخَیۡرٌ لِّلصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۲۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اگر تم سزا دو تو ویسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی تھی اور اگر تم صبر کرو تو بیشک صبر والوں کو
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…’’امر بالمعروف‘‘ سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی کتاب’’نیکی کی دعوت‘‘ کا مطالعہ بھی بہت مفید ہے۔
2…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۱۲۵، ۳/۱۵۱-۱۵۲۔