{لَاجَرَمَ:حقیقت میں۔} یعنی حقیقت میں یہ لوگ آخرت میں برباد ہونے والے ہیں کہ ان کے لئے جہنم کادائمی عذاب ہے۔(1)
سب سے بڑی بد نصیبی اور خوش نصیبی:
اس سے معلوم ہوا کہ سب سے بڑی بد نصیبی دل کی غفلت ہے اور سب سے بڑی خوش نصیبی دل کی بیداری ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں کو غفلت سے محفوظ فرمائے اور ہمیں دل کی بیداری نصیب فرمائے ۔
ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا مِنۡۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوۡا ثُمَّ جٰہَدُوۡا وَصَبَرُوۡۤا ۙ اِنَّ رَبَّکَ مِنۡۢ بَعْدِہَا لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۱۰﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: پھر بیشک تمہارا رب ان کے لیے جنہوں نے اپنے گھر چھوڑے بعد اس کے کہ ستائے گئے پھر انہوں نے جہاد کیا اور صابر رہے بیشک تمہارا رب اس کے بعد ضرور بخشنے والا ہے مہربان۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر بیشک تمہارا رب ان لوگوں کے لیے جنہوں نے تکلیفیں دئیے جانے کے بعد اپنے گھر بار چھوڑے پھر انہوں نے جہاد کیا اورصبر کیا بیشک تمہارا رب اس کے بعد ضرور بخشنے والا مہربان ہے۔
{ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ:پھر بیشک تمہارا رب ۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بے شک وہ لوگ جنہیں ہجرت سے پہلے ان کے دین کے بارے میں مشرکین کی طرف سے تکلیفیں اور اَذِیَّتیں دی گئیں ،اس کے بعد انہوں نے ہجرت کی اور اپنے شہر، گھر اور خاندانوں کو چھوڑ کر اہلِ اسلام کے شہر مدینہ طیبہ منتقل ہو گئے۔ پھر انہوں نے اپنے ہاتھوں، تلواروں اور زبانوں کے ساتھ مشرکین اور ان کے جھوٹے معبودوں کے خلاف جہاد کیا اور جہاد کرنے پر صبر کیا تو بیشک یہ بخشش کے مستحق ہیں ، اس لئے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ان کی اس آزمائش کے بعد انہیں ضرور بخشنے والا مہربان ہے۔(2)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جلالین، النحل، تحت الآیۃ: ۱۰۹، ص۲۲۶۔
2…تفسیر طبری، النحل، تحت الآیۃ: ۱۱۰، ۷/۶۵۳، جلالین، النحل، تحت الآیۃ: ۱۱۰، ص۲۲۶، ملتقطاً۔