Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
388 - 601
ذٰلِکَ بِاَنَّہُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوۃَ الْدُّنْیَا عَلَی الۡاٰخِرَۃِ ۙ وَ اَنَّ اللہَ لَا یَہۡدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۰۷﴾ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ طَبَعَ اللہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمْ وَ سَمْعِہِمْ وَ اَبْصَارِہِمْ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْغٰفِلُوۡنَ ﴿۱۰۸﴾ لَاجَرَمَ اَنَّہُمْ فِی الۡاٰخِرَۃِ ہُمُ الْخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۰۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: یہ اس لئے کہ انھوں نے دنیا کی زندگی آخرت سے پیاری جانی اور اس لئے کہ اللّٰہ کافروں کو راہ نہیں دیتا ۔یہ ہیں وہ جن کے دل اور کان اور آنکھو ں پر اللّٰہ نے مہر کر دی ہے اور وہی غفلت میںپڑے ہیں۔  آپ ہی ہوا کہ آخرت میں وہی خراب ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ عذاب اس لئے ہے کہ انھوں نے آخرت کی بجائے دنیا کی زندگی کوپسند کرلیا اور اس لئے کہ اللّٰہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا ۔یہی وہ لوگ ہیں جن کے دل اور کان اور آنکھو ں پر اللّٰہ نے مہر لگا دی ہے اور یہی غافل ہیں۔ حقیقت میں یہ لوگ آخرت میں برباد ہونے والے ہیں۔ 
{ذٰلِکَ:یہ۔} یعنی جو لوگ دل کھول کر کافر ہوں ان کے لئے اللّٰہ تعالیٰ کے غضب اور بڑے عذاب کی وعید کا ایک سبب یہ ہے کہ انہوں نے آخرت کی بجائے دنیا کی زندگی کوپسند کرلیا اور دنیا کی محبت ان کے کفر کا سبب ہے۔دوسرا سبب یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ایسے کافروں کو ہدایت نہیں دیتاجو سمجھ بوجھ کے باوجود بھی کفر پر ڈٹے رہیں۔(1) 
{اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ:یہی وہ لوگ ہیں۔} یعنی یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں ، کانوں اور آنکھو ں پر اللّٰہ تعالیٰ نے مہر لگا دی ہے، نہ وہ غورو فکر کرتے ہیں، نہ وعظ و نصیحت پرتوجہ دیتے ہیں، نہ سیدھے اور ہدایت والے راستے کو دیکھتے ہیں اور یہی غفلت کی انتہا کوپہنچے ہوئے ہیں کہ اپنی عاقبت اور انجام کار کے بارے میں نہیں سوچتے۔(2)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۱۰۷، ص۶۱۰، خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۱۰۷، ۳/۱۴۵، ملتقطاً۔
2…مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ص۶۱۰۔