Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
362 - 601
نگہبان بناکر لائیں گے۔(1)
{تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ:جو ہر چیز کا روشن بیان ہے۔} اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’قرآن عظیم گواہ ہے اور ا س کی گواہی کس قدر اعظم ہے کہ وہ ہر چیز کا تِبیان ہے اور تبیان اس روشن اور واضح بیان کو کہتے ہیں جو اصلاً پوشیدگی نہ رکھے کہ لفظ کی زیادتی معنی کی زیادتی پر دلیل ہوتی ہے اور بیان کے لئے ایک تو بیان کرنے والا چاہئے، وہ اللّٰہ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی ہے اور دوسرا وہ جس کے لئے بیان کیا جائے اور وہ وہ ہیں جن پر قرآن اترا(یعنی) ہمارے سردار رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ۔اور اہلِ سنت کے نزدیک ’’شَیْءٍ‘‘ ہر موجود کو کہتے ہیں تو اس میں جملہ موجودات داخل ہو گئے ،فرش سے عرش تک، شرق سے غرب تک، ذاتیں اور حالتیں، حرکات اور سکنات، پلک کی جنبشیں اور نگاہیں، دلوں کے خطرے اور ارادے اور ان کے سوا جو کچھ ہے (وہ سب اس میں داخل ہو گیا) اور انہیں موجودات میں سے لوحِ محفوظ کی تحریر ہے، تو ضروری ہے کہ قرآنِ عظیم میں ان تمام چیزوں کابیان روشن اور تفصیل کامل ہو اور یہ بھی ہم اسی حکمت والے قرآن سے پوچھیں کہ لوح میں کیا کیا لکھا ہوا ہے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے
’’وَکُلُّ صَغِیۡرٍ وَّکَبِیۡرٍ مُّسْتَطَرٌ ‘‘(2)
(ترجمۂکنزُالعِرفان:ہر چھوٹی اور بڑی چیز لکھی ہوئی ہے۔)
اور فرماتا ہے
’’وَکُلَّ شَیۡءٍ اَحْصَیۡنٰہُ فِیۡۤ اِمَامٍ مُّبِیۡنٍ‘‘(3)
(ترجمۂکنزُالعِرفان:اور ایک ظاہر کردینے والی کتاب (لوحِ محفوظ) میں ہر چیز ہم نے شمار کررکھی ہے۔)
اور فرماتا ہے
’’وَلَا حَبَّۃٍ فِیۡ ظُلُمٰتِ الۡاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ‘‘(4)(ترجمۂکنزُالعِرفان:اور نہ ہی زمین کی تاریکیوں میں کوئی دانہ ہے مگر وہ ان سب کو جانتا ہے۔ اور کوئی تر چیز نہیں اور نہ ہی خشک چیز مگر وہ ایک روشن کتاب میں ہے۔)
	اور بے شک صحیح حدیثیں فرما رہی ہیں کہ روزِ اول سے آخر تک جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہو گا سب لوحِ محفوظ میں لکھا ہے بلکہ یہاں تک ہے کہ جنت و دوزخ والے اپنے ٹھکانے میں جائیں ،اور وہ جو ایک حدیث میں فرمایا کہ ابد تک کا سب
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ابوسعو د، النحل، تحت الآیۃ: ۸۹، ۳/۲۸۷، روح البیان، النحل، تحت الآیۃ: ۸۹، ۵/۶۹، ملتقطاً۔
2…قمر:۵۳۔		3…یس:۱۲۔		4…انعام:۵۹۔