Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
360 - 601
بِمَا کَانُوۡا یُفْسِدُوۡنَ ﴿۸۸﴾
ترجمۂکنزالایمان:جنہوں نے کفر کیا اور اللّٰہ کی راہ سے روکا ہم نے عذاب پر عذاب بڑھایا بدلہ ان کے فساد کا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:جنہوں نے کفر کیا اور اللّٰہ کی راہ سے روکا ہم ان کے فساد کے بدلے میں عذاب پر عذاب کا اضافہ کردیں گے۔
{اَلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا:جنہوں نے کفر کیا۔} اس سے پہلی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے ان کافروں کی وعید بیان فرمائی جنہوں نے صرف خود کفر کیا جبکہ ا س آیت میںان کافروں کی وعید بیان فرمائی جو خود بھی کافر تھے اور دوسروں کو اللّٰہ تعالیٰ کے راستے سے روک کر( اور گمراہ کر کے) انہیں کافر بناتے تھے۔(1)       آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جن لوگوں نے آپ کی نبوت کا انکار کیا اور جو آپ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے پاس سے لائے، اسے جھٹلایا اور لوگوں کو اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے سے روکا تو ہم قیامت کے دن جہنم میں انہیں اس عذاب سے زیادہ عذاب دیں گے جس کے وہ صرف اپنے کفر کی وجہ سے حقدار ہوئے تھے۔ انہیں دگنا عذاب اس لئے ہو گا کہ دنیا میں یہ خود بھی اللّٰہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے تھے اور دوسرے لوگوں کو اللّٰہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دیتے تھے۔(2)
گمراہ گر کوزیادہ عذاب ہوگا:
	اس سے معلوم ہوا کہ گمراہ گر کا عذاب گمراہ سے زیادہ ہے کیونکہ اس کا جرم بھی زیادہ ہے ایک تو خود گمراہ ہونا اور دوسرا، دوسروں کو گمراہ کرنا۔ یہ جتنوں کو گمراہ کرے گا اتنے ہی لوگوں کا عذاب اِسے دیا جائے گا، چنانچہ اس کی آگ زیادہ تیز ہوگی، اس کے سانپ بچھو زیادہ زہریلے اور تمام دوزخیوں کا خون و پیپ اس کی غذا ہوگی۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، النحل، تحت الآیۃ: ۸۸، ۷/۲۵۷۔
2…تفسیرطبری، النحل، تحت الآیۃ: ۸۸، ۷/۶۳۲-۶۳۳۔