Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
357 - 601
کا قول ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی نعمت سے سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مراد ہیں۔ اس صورت میں آیت کے معنی یہ ہیں کہ وہ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو پہچانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ آپ کا وجود اللّٰہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے اور اس کے باوجود پھر اس نعمت کاانکار کردیتے ہیں یعنی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان نہیں لاتے اور اس طرح ان میں اکثر کافر ہی ہیں اور وہ دینِ اسلام قبول نہیں کرتے۔(1)
وَیَوْمَ نَبْعَثُ مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیۡدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَلَا ہُمْ یُسْتَعْتَبُوۡنَ ﴿۸۴﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور جس دن ہم اٹھائیں گے ہر امت میں سے ایک گواہ پھر کافروں کو نہ اجازت ہو نہ وہ منائے جائیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یاد کروجس دن ہم ہر امت سے ایک گواہ اٹھائیں گے پھر کافروں کو اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ان سے رجوع کرنا،طلب کیا جائے گا۔ 
{وَیَوْمَ نَبْعَثُ:اور یاد کروجس دن ہم اٹھائیں گے۔} اس سے پہلی آیتوں میں اللّٰہ تعالیٰ نے کفار کے بارے میں بیان فرمایا کہ انہوں نے اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچاننے کے باوجود ان کا انکار کر دیا، اور یہ بھی بیان فرمایا کہ ان میں سے اکثر کافر ہیں جبکہ ان آیتوں میں اللّٰہ تعالیٰ نے ان کفار پر عذاب کی وعید اور قیامت کے دن ان کا جو حال ہو گا اسے بیان فرمایا۔ آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ جب قیامت کے دن ہم ہر امت سے ایک گواہ اٹھائیں گے جو اُن کی تصدیق و تکذیب اور ایمان و کفر کی گواہی دے گا اور یہ گواہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں ، پھر کافروں کومعذرت کرنے کی یا کسی کلام کی یا دنیا کی طرف لوٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ا س دن انہیں ا س بات کا مُکَلَّف کیا جائے گا کہ وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو راضی کریں کیونکہ آخرت عمل کرنے کی جگہ نہیں۔(2)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۸۳، ۳/۱۳۸، مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۸۳، ص۶۰۵، خزائن العرفان، النحل، تحت الآیۃ: ۸۳، ص۵۱۵، ملتقطاً۔
2…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۸۴، ۳/۱۳۸، مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۸۴، ص۶۰۵، ملتقطاً۔