Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
345 - 601
بعد زندہ کئے جانے کو محال سمجھنے والے کس قدر احمق ہیں ۔(1)
وَاللہُ خَلَقَکُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰىکُمْ ۟ۙ وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرَدُّ اِلٰۤی اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِکَیۡ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْـًٔا ؕ اِنَّ اللہَ عَلِیۡمٌ قَدِیۡرٌ ﴿٪۷۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اللّٰہ نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہاری جان قبض کرے گا اور تم میں کوئی سب سے ناقص عمر کی طرف پھیرا جاتا ہے کہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے بیشک اللّٰہ سب کچھ جانتا سب کچھ کرسکتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللّٰہ نے تمہیں پیدا کیا پھروہ تمہاری جان قبض کرے گااور تم میں کوئی سب سے گھٹیا عمر کی طرف پھیرا جاتا ہے تاکہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔ بیشک اللّٰہ جاننے والا ، بہت قدرت والا ہے۔
{وَاللہُ خَلَقَکُمْ:اور اللّٰہ نے تمہیں پیدا کیا ۔} اس سے پہلی آیات میں اللّٰہ تعالیٰ نے  حیوانات کے عجیب و غریب اَفعال ذکر فرما کر اپنے خالق اور قادر ہونے کی دلیل بیان فرمائی اور اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنی قدرت کے وہ آثار ظاہر فرمائے جو خود لوگوں میں اور اُن کے اَحوال میں نمایاں ہیں ۔
	 آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے تمہیں وجود بخشا حالانکہ تم کچھ بھی نہ تھے، کیسی عجیب قدرت ہے ، پھر وہ اس وقت تمہاری جان قبض کرے گا اور تمہیں زندگی کے بعد موت دے گا جب تمہاری وہ مدت پوری ہو جائے جو اس نے مقرر فرمائی ہے، چاہے بچپن میں پوری ہو یا جوانی میں یا بڑھاپے میں، اور تم میں کوئی سب سے گھٹیا عمر کی طرف پھیرا جاتا ہے جس کا زمانہ انسانی عمر کے مَراتب میں ساٹھ سال کے بعد آتا ہے کیونکہ اس وقت اعضا اور حواس سب ناکارہ ہونے کے قریب ہوتے ہیں اور انسان کی یہ حالت ہوجاتی ہے کہ وہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے اور نادانی میں بچوں سے زیادہ بدتر ہوجائے ۔ ان تَغَیُّرات میں قدرتِ الٰہی کے کیسے عجائبات مشاہدے میں آتے ہیں ۔ حضرت عکرمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۶۸-۶۹، ص۶۰۱، جلالین مع صاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۶۸-۶۹، ۳/۱۰۷۷-۱۰۷۸، خزائن العرفان، النحل، تحت الآیۃ: ۶۹، ص۵۱۱، ملتقطاً۔