وَ لِلہِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرْضِ مِنۡ دَآبَّۃٍ وَّالْمَلٰٓئِکَۃُ وَہُمْ لَایَسْتَکْبِرُوۡنَ ﴿۴۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اللّٰہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں چلنے والا ہے اور فرشتے اور وہ غرور نہیں کرتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو کچھ آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں چلنے والا ہے اور فرشتے سب اللّٰہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور فرشتے غرور نہیں کرتے۔
{وَ لِلہِ یَسْجُدُ:اور اللّٰہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں۔} علما ء فرماتے ہیںسجدہ دو طرح کا ہوتا ہے ۔ (1) سجدۂ عبادت ، جیسا کہ مسلمانوں کا اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے لئے سجدہ۔ (2) سجد ہ بہ معنی اطاعت اور عاجزی ، جیسا کہ سایہ وغیرہ کا سجدہ۔ ہر چیز کا سجدہ اس کی حیثیت کے مطابق ہے ،مسلمانوں اور فرشتوں کا سجدہ، سجدۂ عبادت ہے اور ان کے ماسوا کا سجدہ ، سجدہ بہ معنی اطاعت اور عاجزی ہے۔ (1)
یاد رہے کہ یہاں سجدہ سے مراد اطاعت ہے نہ کہ اصطلاحی سجدہ، اور اگر باقاعدہ سجدہ ہی مراد ہو تو بھی حق ہے کہ کسی چیز کی حقیقت ہمیں معلوم نہ ہونا ہمارے علم کی کمی کی دلیل ہے ، اس بات کی نہیں کہ وہ چیز ہی نہیں ہوسکتی جیسے آج کل کی لاکھوں سائنسی ایجادات سے پہلے لوگوں کو اِن چیزوں کا بالکل علم نہیں تھا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ یہ چیزیں ہوہی نہیں سکتی تھیں ، یہی صورت سایوں کے سجدہ کرنے میں سمجھ لی جائے اور یہی جواب مخالفینِ اسلام کے سائنسی اعتبار سے اسلام کے خلاف اکثر اعتراضوں کا ہے۔
نوٹ:یاد رہے کہ یہ آیت آیاتِ سجدہ میں سے ہے ، اس کے پڑھنے اور سننے والے پر سجدۂ تلاوت لازم ہو جائے گا۔ سجدۂ تلاوت کے چند احکام سورۂ اَعراف آیت نمبر 206میں گزر چکے ہیں، مزید مسائل جاننے کے لئے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۴۹، ۳/۱۲۵، تفسیر کبیر، النحل، تحت الآیۃ: ۴۹، ۷/۲۱۶ملتقطاً۔