Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
323 - 601
ترجمۂکنزالایمان: تو کیا جو لوگ بُرے مکر کرتے ہیں اس سے نہیں ڈرتے کہ اللّٰہ انہیں زمین میں دھنسادے یا انہیں وہاں سے عذاب آئے جہاں سے انہیں خبر نہ ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو کیا بری سازشیں کرنے والے اس بات سے بے خوف ہوگئے کہ اللّٰہ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ان پر وہاں سے عذاب آئے جہاں سے انہیں خبر بھی نہ ہو۔
{اَفَاَمِنَ:تو کیا بے خوف ہوگئے۔} اس آیت اورا س کے بعد والی دو آیات میں اللّٰہ تعالیٰ نے کفارِ مکہ کو چار طرح کے عذابوں سے ڈرایا ہے ۔ (1) زمین میں دھنسادیئے جانے سے۔ (2) آسمان سے عذاب نازل کر دینے سے۔ (3) ایسی آفات سے جو یکبارگی ا س طرح آئیں کہ ان کی علامات اور دلائل انہیں معلوم نہ ہوں۔ (4) ایسی آفات سے جو تھوڑی تھوڑی آئیں یہاں تک کہ ان کا آخری فرد بھی ہلاک ہو جائے۔ (1)اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفارِ مکہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابۂ کرام  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے خلاف سازشیں کرتے ہیں ، انہیں ایذائیں پہنچانے کی کوشش میں رہتے ہیں  اور چھپ چھپ کر فساد پھیلانے کی تدبیریں کرتے ہیں ،کیا وہ ا س بات سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّانہیں زمین میں دھنسادے جیسے قارون کو دھنسادیا تھا یا ان پر آسمان سے اچانک عذاب نازل ہو جائے جیسے قومِ لوط پر ہو اتھا۔(2) 
	 بعض مفسرین نے فرمایا کہ ’’مِنْ حَیۡثُ لَا یَشْعُرُوۡنَ(جہاں سے انہیں خبر بھی نہ ہو)‘‘ سے بدر کا دن مراد ہے کیونکہ کفار کے بڑے بڑے سردار اس دن ہلاک کر دئیے گئے اور ان کا حال یہ تھا کہ وہ اپنی ہلاکت کا گمان بھی نہ رکھتے تھے۔ (3)
اَوْ یَاۡخُذَہُمْ فِیۡ تَقَلُّبِہِمْ فَمَا ہُمۡ بِمُعْجِزِیۡنَ ﴿ۙ۴۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: یا انہیں چلتے پھرتے پکڑ لے کہ وہ تھکا نہیں سکتے۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، النحل، تحت الآیۃ: ۴۵-۴۷، ۷/۲۱۲-۲۱۳۔
2…روح البیان، النحل، تحت الآیۃ: ۴۵، ۵/۳۸، بیضاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۴۵، ۳/۴۰۰، ملتقطاً۔
3…تفسیر قرطبی، النحل، تحت الآیۃ: ۴۵، ۵/۷۹، الجزء العاشر۔