میں تم جھگڑتے تھے؟ علم والے کہیں گے: بیشک آج ساری رسوائی اور برائی کافروں پر ہے۔
{ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُخْزِیۡہِمْ:پھر قیامت کے دن اللّٰہ انہیں رسوا کرے گا ۔} اس میںاللّٰہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ کفار پر صرف اس قدر ہی عذاب نہ ہو گا کہ ان پر صرف دنیا میں عذاب ہوجائے بلکہ اللّٰہ تعالیٰ قیامت کے دن بھی انہیں رسوا کرے گا اور انہیں سختی سے فرمائے گا ’’وہ کہاں ہیں جنہیں تم اپنے گمان میں میرا شریک سمجھتے تھے اور ان کے بارے میں تم مومنوں سے جھگڑتے تھے ۔ (1)
{قَالَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ:علم والے کہیں گے۔} کفار دنیا میں اہلِ ایمان کا مذاق اڑاتے تھے، جب قیامت کے دن اہلِ ایمان کو طرح طرح کی عظمتوں اور شرافتوں سے نوازا جائے گا اور کافروں کو رسوا ئی کے ساتھ مختلف قسم کے عذابوں میں گرفتار کیا جائے گا تو ا س وقت اُن اُمتوں کے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور علماء جو اُنہیں دنیا میں ایمان کی دعوت دیتے اور نصیحت کرتے تھے اور یہ لوگ اُن کی بات نہ مانتے تھے ،وہ حضرات اِن کافروں سے کہیں گے’’ بیشک آج ساری رسوائی اور عذاب کافروں پر ہے۔ (2)
آخرت میں بھی علماء کا درجہ اعلیٰ ہو گا:
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علماء کا درجہ دنیا میں بھی اعلیٰ ہے اور آخرت میں بھی اعلیٰ ہوگا کہ اللّٰہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰینے ان ہی کا قول نقل فرمایا ہے۔
الَّذِیۡنَ تَتَوَفّٰىہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیۡۤ اَنۡفُسِہِمْ ۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا کُنَّا نَعْمَلُ مِنۡ سُوۡٓءٍ ؕ بَلٰۤی اِنَّ اللہَ عَلِیۡمٌۢ بِمَاکُنۡتُمْ تَعْمَلُوۡنَ ﴿۲۸﴾ فَادْخُلُوۡۤا اَبْوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیۡنَ ﴿۲۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: وہ کہ فرشتے ان کی جان نکالتے ہیں اس حال پر کہ وہ اپنا برا کررہے تھے اب صلح ڈالیں گے کہ ہم تو
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، النحل، تحت الآیۃ: ۲۷، ۷/۱۹۹، ملخصاً۔
2…مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۲۷، ص۵۹۴، خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۲۷، ۳/۱۱۹-۱۲۰، ملتقطاً۔