گر پڑی اور عذاب ان پر وہاں سے آیا جہاں کی انہیں خبر نہ تھی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:بیشک ان سے پہلے لوگوں نے مکرو فریب کیا تھا تو اللّٰہ نے ان کی تعمیر کو بنیادوں سے اکھاڑ دیا اور اوپر سے ان پر چھت گر پڑی اور ان پر وہاں سے عذاب آیا جہاں سے انہیں خبر بھی نہیں تھی۔
{قَدْ مَکَرَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبْلِہِمْ:بیشک ان سے پہلے لوگوں نے مکرو فریب کیا تھا۔} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مثال بیان فرمائی ہے جو اپنے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ مکرو فریب کرتے تھے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پچھلی اُمتوں نے اپنے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ساتھ مکر کرنے کے لئے کچھ منصوبے بنائے تھے اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں خود اُنہیں کے منصوبوںمیں ہلاک کردیا اور اُن کا حال ایسا ہوا جیسے کسی قوم نے کوئی بلند عمارت بنائی پھر وہ عمارت ان پر گر پڑی اور وہ ہلاک ہوگئے، اسی طرح کفار اپنی مکاریوں سے خود برباد ہوئے ۔ مفسرین نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ اس آیت میں اگلے مکر کرنے والوں سے نمرود بن کنعان مراد ہے ،یہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے زمانے میں روئے زمین کا سب سے بڑا بادشاہ تھا ،اس نے بابِل میں بہت اونچی ایک عمارت بنائی جس کی بلندی پانچ ہزار گز تھی اور اس کا مکریہ تھا کہ اُس نے یہ بلند عمارت اپنے خیال میں آسما ن پر پہنچنے اور آسمان والوں سے لڑنے کے لئے بنائی تھی اور اللّٰہ تعالیٰ نے ہوا چلائی اور وہ عمارت ان پر گر پڑی اور وہ لوگ ہلاک ہوگئے۔ (1)
ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُخْزِیۡہِمْ وَیَقُوۡلُ اَیۡنَ شُرَکَآ ِٔیَ الَّذِیۡنَ کُنۡتُمْ تُشَآقُّوۡنَ فِیۡہِمْ ؕ قَالَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَالْسُّوۡٓءَ عَلَی الْکٰفِرِیۡنَ ﴿ۙ۲۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: پھر قیامت کے دن انہیں رسوا کرے گا اور فرمائے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جن میں تم جھگڑتے تھے علم والے کہیں گے آج ساری رسوائی اور برائی کافروں پر ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر قیامت کے دن اللّٰہ انہیں رسوا کرے گا اور فرمائے گا: کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کے بارے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۲۶، ص۵۹۳، خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۲۶، ۳/۱۱۹، ملتقطاً۔