نوٹ: نعمتیں شمار نہ کر سکنے کی کچھ تفصیل ہم سورہ ٔ ابراہیم آیت نمبر 34 میں کرآئے ہیں ، وہاں ملاحظہ فرمائیں۔
{اِنَّ اللہَ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ:بیشک اللّٰہ بخشنے والا مہربان ہے۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں پر جیسا شکر اداکرنا تم پر لازم ہے اگر تم ویسا نہ کر سکو تو بے شک اللّٰہ تعالیٰ تمہاری تقصیر معاف کرنے والا ہے ،وہ شکرادا کرنے میں تمہاری تقصیر کے باوجود تم پر نعمتیں وسیع فرماتا ہے اور گناہوں کی وجہ سے تمہیں اپنی نعمتوں سے محروم نہیں فرماتا۔ (1)
وَاللہُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوۡنَ وَمَا تُعْلِنُوۡنَ ﴿۱۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اللّٰہ جانتا ہے جو چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللّٰہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔
{وَاللہُ یَعْلَمُ:اور اللّٰہ جانتا ہے۔} یعنی تم اپنے عقائد و اعمال میں سے جو چھپاتے اور ظاہر کرتے ہووہ سب اللّٰہ تعالیٰ جانتا ہے۔ (2)
چھپ کر گناہ کرنے والوں کو نصیحت :
اس آیت میں بیان ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ ہمارے تمام ظاہری و باطنی اعمال جانتا ہے، اس میں ہر اس شخص کے لئے بڑی عبرت و نصیحت ہے جو لوگوں سے چھپ کر برے اعمال کرتا ہے اور اپنا برا عمل لوگوں پر ظاہر ہونے سے ڈرتا ہے جبکہ وہ اس رب تعالیٰ سے نہیں ڈرتا جو ان کی تنہائیوں اور خَلْوَتوں کے اَعمال بھی جانتا ہے ۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:
چھپ کے لوگوں سے کئے جس کے گناہ وہ خبردار ہے کیا ہونا ہے
کام زنداں کے کئے اور ہمیں شوقِ گلزار ہے کیا ہونا ہے
وَالَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ لَا یَخْلُقُوۡنَ شَیْـًٔا وَّہُمْ یُخْلَقُوۡنَ ﴿ؕ۲۰﴾
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۱۸، ۳/۱۱۷۔
2…صاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۱۹، ۳/۱۰۶۰-۱۰۶۱۔