(11)…حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شان بیان فرمائی گئی۔
(12) …نیکی کی دعوت دینے کے ا نتہائی اہم اصول بیان کئے گئے۔
سورۂ حِجْر کے ساتھ مناسبت:
سورۂ نحل کی اپنے سے ماقبل سورت ’’حِجْر‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ حِجْرکی آیت نمبر 92 میں فرمایا گیا
’’فَوَرَبِّکَ لَنَسْـَٔلَنَّہُمْ اَجْمَعِیۡنَ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو تمہارے رب کی قسم ،ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے۔‘‘
اس سے قیامت کے دن لوگوں کا جمع ہونا اور ان سے ان کے دنیوی اَعمال کے بارے سوال کیا جانا ثابت ہوا۔ اسی طرح آیت نمبر 99 میں فرمایا گیا ’’وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاۡتِیَکَ الْیَقِیۡنُ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو حتّٰی کہ تمہیں موت آجائے۔ ‘‘
یہ آیت موت کے ذکر پر دلالت کرتی ہے۔ ان دونوں آیات کی سورۂ نحل کی پہلی آیت سے مناسبت ہے کہ اس میں بھی قیامت قائم ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ ﴿﴾
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزالعرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، رحمت والاہے۔
اَتٰۤی اَمْرُ اللہِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوۡہُ ؕ سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوۡنَ ﴿۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اب آتا ہے اللّٰہ کا حکم تو اس کی جلدی نہ کرو پاکی اور برتری ہے اسے ان کے شریکوں سے۔