Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
272 - 601
سورۂ نحل
 سورۂ نحل کاتعارف
مقامِ نزول:
 	سورۂ نحل مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے ، البتہ آیت ’’فَعَاقِبُوۡا بِمِثْلِ مَا عُوۡقِبْتُمۡ بِہٖ‘‘ سے لے کر سورت کے آخر تک جوآیات ہیں وہ مدینہ طیبہ میں نازل ہوئیں ،نیز اس بارے میں اور اَقوال بھی ہیں۔ (1)
آیات، کلمات اور حروف کی تعداد:
	  اس سورت میں 16رکوع ، 128آیتیں ، 2840 کلمے اور 7707 حروف ہیں۔ (2)
’’نحل ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
	عربی میں شہد کی مکھی کو’’نحل ‘‘کہتے ہیں ۔ اس سورت کی آیت نمبر 68 میں اللّٰہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی کا ذکر فرمایا اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ نحل‘‘ رکھا گیا۔
سورۂ نحل سے متعلق روایات: 
(1) …حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ قرآنِ پاک کی سورۂ نحل میں ایک آیت ہے جو کہ تمام خیر و شر کے بیان کو جامع ہے اور وہ یہ آیت ہے
’’اِنَّ اللہَ یَاۡمُرُ بِالْعَدْلِ وَالۡاِحْسَانِ وَ اِیۡتَآیِٔ ذِی الْقُرْبٰی وَیَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنۡکَرِ وَ الْبَغْیِ ۚ یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوۡنَ‘‘ (3)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اللّٰہ عدل اور احسان اور رشتے داروں کو دینے کا حکم فرماتا ہے اور بے حیائی اور ہر بری بات اور ظلم سے منع فرماتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔(4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، تفسیر سورۃ النحل، ۳/۱۱۲۔
2…خازن، تفسیر سورۃ النحل، ۳/۱۱۲۔
3…نحل:۹۰۔
4…معجم الکبیر، عبد اللّٰہ بن مسعود الہذلی، ۹/۱۳۲، الحدیث: ۸۶۵۸۔