Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
260 - 601
شاہانِ عالَم کے لئے اس کا تصور بھی محال ہے۔ اس لئے ہم تمام دنیا کوچیلنج کے ساتھ دعوت نظارہ دیتے ہیں کہ
چشمِ  اقوام  یہ  نظارہ  ابد  تک  دیکھے	رفعتِ  شانِ  رَفَعْنَا  لَکَ  ذِکْرَکَ  دیکھے(1)
اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیۡمُ ﴿۸۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک تمہارا رب ہی بہت پیدا کرنے والا جاننے والا ہے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک تمہارا رب ہی بہت پیدا کرنے والا، جاننے والا ہے۔
{اِنَّ رَبَّکَ:بیشک تمہارا رب۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کے جس رب نے آپ کو کمال کی انتہا تک پہنچایا وہی آپ کو،ان کفار کو اور تمام موجودات کو پیدا کرنے والا ہے اور وہ آپ کے اور ا ن کفار کے احوال کو تمام تر تفصیلات کے ساتھ جانتا ہے اور آپ کے اور ان کے درمیان ہونے والے معاملات میں سے کچھ بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے اس لئے آپ تمام امور میں اسی پر توکل کریں تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ فرما دے۔ (2)
وَلَقَدْ اٰتَیۡنٰکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیۡ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیۡمَ ﴿۸۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک ہم نے تم کو سات آیتیں دیں جو دہرائی جاتی ہیں اور عظمت والا قرآن۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے تمہیں سات آیتیں دیں جو بار بار دہرائی جاتی ہیں اور عظمت والا قرآن(دیا)۔ 
{وَلَقَدْ اٰتَیۡنٰکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیۡ:اور بیشک ہم نے تمہیں سات آیتیں دیں جو بار بار دہرائی جاتی ہیں ۔} اس سے پہلی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کفار کی اَذِیَّتوں پر صبر کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے ان عظیم نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جو اس نے صرف اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو عطا 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…سیرت مصطفی، تیرہواں باب، ہجرت کا آٹھواں سال، ص۴۳۸-۴۴۲۔
2…روح البیان، الحجر، تحت الآیۃ: ۸۶، ۴/۴۸۵۔