ناامیدی کی خطرناک فضا میں ایک دم شہنشاہِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی نگاہِ رحمت ان پاپیوں کی طرف متوجہ ہوئی۔ اور ان مجرموں سے آپ نے پوچھا کہ’’بولو! تم کو کچھ معلوم ہے کہ آج میں تم سے کیا معاملہ کرنے والا ہوں؟‘‘ اس دہشت انگیز اور خوفناک سوال سے مجرمین حواس باختہ ہو کر کانپ اُٹھے لیکن جبینِ رحمت کے پیغمبرانہ تیور کو دیکھ کر اُمید و بیم کے محشر میں لرزتے ہوئے سب یک زبان ہوکر بولے کہ اَخٌ کَرِیْمٌ وَابْنُ اَخٍ کَرِیْمٍ آپ کرم والے بھائی اور کرم والے باپ کے بیٹے ہیں۔‘‘ سب کی للچائی ہوئی نظریں جمالِ نبوت کا منہ تک رہی تھیں اور سب کے کان شہنشاہ ِنبوت کا فیصلہ کن جواب سننے کے منتظر تھے کہ اک دم دفعۃً فاتح مکہ نے اپنے کریمانہ لہجے میں ارشاد فرمایا کہ’’ لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ فَاذْھَبُوْا اَنْتُمُ الطُّلَقَآءُ‘‘آج تم پر کوئی الزام نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔
بالکل غیرمتوقع طور پر ایک دم اچانک یہ فرمانِ رسالت سن کر سب مجرموں کی آنکھیں فرطِ ندامت سے اشکبار ہوگئیں اور ان کے دلوں کی گہرائیوں سے جذبات شکریہ کے آثار آنسوؤں کی دھار بن کر ان کے رخسار پر مچلنے لگے اور کفار کی زبانوں پر لَااِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ کے نعروں سے حرمِ کعبہ کے درودیوار پر ہر طرف انوار کی بارش ہونے لگی۔ ناگہاں بالکل ہی اچانک اور دفعۃً ایک عجیب انقلاب برپا ہوگیا کہ سماں ہی بدل گیا، فضا ہی پلٹ گئی اور ایک دم ایسا محسوس ہونے لگا کہ
جہاں تاریک تھا، بے نور تھا اور سخت کالا تھا کوئی پردے سے کیا نکلا کہ گھر گھر میں اجالا تھا
کفار نے مہاجرین کی جائدادوں، مکانوں، دکانوں پر غاصبانہ قبضہ جمالیا تھا۔ اب وقت تھا کہ مہاجرین کو ان کے حقوق دلائے جاتے اور ان سب جائدادوں، مکانوں، دکانوں اور سامانوں کو مکہ کے غاصبوں کے قبضوں سے واگزار کرکے مہاجرین کے سپرد کیے جاتے۔ لیکن شہنشاہِ رسالت نے مہاجرین کو حکم دے دیا کہ وہ اپنی کل جائدادیں خوشی خوشی مکہ والوں کو ہبہ کردیں۔
اللّٰہ اکبر! اے اقوامِ عالم کی تاریخی داستانو! بتاؤ کیا دنیا کے کسی فاتح کی کتابِ زندگی میں کوئی ایسا حسین و زریں ورق ہے؟ اے دھرتی! خدا کے لئے بتا، اے آسمان! لِلّٰہ بول۔ کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا فاتح گزرا ہے جس نے اپنے دشمنوں کے ساتھ ایسا حسنِ سلوک کیا ہو؟ اے چاند اور سورج کی چمکتی اور دوربین نگاہو! کیا تم نے لاکھوں برس کی گردشِ لیل و نہار میں کوئی ایسا تاجدار دیکھا ہے؟ تم اس کے سوا اور کیا کہو گے کہ یہ نبی جمال و جلال کا وہ بے مثال شاہکار ہے کہ