Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
218 - 601
وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیۡہَا مَعَایِشَ وَمَنۡ لَّسْتُمْ لَہٗ بِرٰزِقِیۡنَ ﴿۲۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور تمہارے لیے اس میں روزیاں کردیں اور وہ کردئیے جنہیں تم رزق نہیں دیتے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تمہارے لیے اس میں زندگی گزارنے کے سامان بنائے اور وہ جاندار بنائے جنہیں تم رزق نہیں دیتے ۔ 
{وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیۡہَا مَعَایِشَ:اور تمہارے لیے اس میں زندگی گزارنے کے سامان بنائے۔}ا س آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ ہم نے تمہارے لئے زمین میں زندگی گزارنے کے سامان بنائے اور تمہارے لئے وہ جاندار پیدا کئے جنہیں تم رزق نہیں دیتے بلکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ رزق دیتا ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ ہم نے تمہارے لئے اور ان جانداروں کے لئے زمین میں زندگی گزارنے کے سامان بنائے جنہیں تم رزق نہیں دیتے ۔ یہ دو مفہوموں پر فرق اصل میں عربی گرامر کے اعتبار سے ہے۔ آیت میں’’ زندگی گزانے کے سامان‘‘ سے کھانے ، پینے اور پہننے کی وہ تمام چیزیں مراد ہیں جن کی دنیوی زندگی پوری ہونے تک انسان کو ضرورت ہے۔ اور ’’جنہیں تم رزق نہیں دیتے‘‘ میں اہل و عیال، لونڈی غلام ، خدمت گار ، چوپائے اور حشراتُ الارض داخل ہیں ،ان کے بارے لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ انہیں رزق دیتے ہیں، یہ لوگوں کی غلط فہمی ہے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ ہی اِنہیں اور اُنہیں سب کو رزق دیتا ہے۔ (1)
وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا عِنۡدَنَا خَزَآئِنُہٗ ۫ وَ مَا نُنَزِّلُہٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوۡمٍ ﴿۲۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور کوئی چیز نہیں جس کے ہمارے پاس خزانے نہ ہوں اور ہم اسے نہیں اتارتے مگر ایک معلوم اندازے  سے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہمارے پاس ہر چیز کے خزانے ہیںاور ہم اسے ایک معلوم اندازے سے ہی اتارتے ہیں۔ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1…مدارک، الحجر، تحت الآیۃ: ۲۰، ص۵۸۰، خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۲۰، ۳/۹۹، ملتقطاً۔