اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں
’’الٓرٰ ۟ تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ وَقُرْاٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۱﴾ رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوْکَانُوۡا مُسْلِمِیۡنَ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان:یہ کتاب اور روشن قرآن کی آیتیں ہیں ۔ کافر بہت آرزوئیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔ (1)
قیامت کے دن کافر اور نیک مسلمان کی آرزو:
قیامت کے دن کافر تو اپنے مسلمان ہونے کی آرزو اور نہ ہونے پر حسرت و افسوس کریں گے جبکہ نیک مسلمان کا حال یہ ہو گا کہ اگر بالفرض کوئی شخص پیدا ہوتے ہی عبادات میں ایسے مشغول ہوجائے کہ کبھی کوئی کام نفس کے لیے نہ کرے اور اسی حال میں بوڑھا ہو کر مرجائے تو وہ یہی کہے گا کہ میں نے کچھ نہ کیا، ا ور موقعہ ملتا تو اور کچھ کرلیتا ، کاش مجھے عبادات اور ریاضات کے لیے دنیا میں پھر بھیج دیا جائے تاکہ میرے اجر میں مزید اضافہ ہو جائے ،چنانچہ حضرت محمد بن ابو عمیرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’ اگر کوئی بندہ اپنی پیدائش کے دن سے اپنے چہرے کے بل گر جائے حتّٰی کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت میں بوڑھا ہو کر مرجائے تو اُس دن اِس عبادت کو حقیر سمجھے گا اور تمنا کرے گا کہ دنیا میں لوٹایا جائے تاکہ وہ اجرو ثواب اور زیادہ کرے ۔ (2) لیکن کافر و مسلمان کی یہاں بیان کردہ تمنا میں فرق یہ ہے کہ کافر کی تمنا پرلے درجے کی حسرت کی وجہ سے ہے جبکہ مومن کی تمنا مزید قرب ِ الٰہی کے حصول کیلئے ہے۔
ذَرْہُمْ یَاۡکُلُوۡا وَیَتَمَتَّعُوۡا وَیُلْہِہِمُ الۡاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوۡنَ ﴿۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: انہیں چھوڑو کہ کھائیں اور برتیں اور امید انہیں کھیل میں ڈالے تو اب جانا چاہتے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم چھوڑ دوانہیں کہ کھائیں اورمزے اڑائیں اورامیدانہیں غفلت میں ڈالے رکھے تو جلد وہ جان لیں گے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مستدرک، کتاب التفسیر، تواضعہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم، ۲/۶۲۱، الحدیث: ۳۰۰۸۔
2…مسند امام احمد، مسند الشامیین، حدیث عتبۃ بن عبد السلمی ابی الولید، ۶/۲۰۳، الحدیث: ۱۷۶۶۷۔