Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
203 - 601
پارہ نمبر…14
رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوْکَانُوۡا مُسْلِمِیۡنَ ﴿۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: بہت آرزوئیں کریں گے کافر کاش مسلمان ہوتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کافر بہت آرزوئیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔
{رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا:کافر بہت آرزوئیں کریں گے ۔}   کفار کی ان آرزؤں کے وقت کے بارے میںبعض مفسرین کاقول یہ ہے کہ نَزع کے وقت جب کافر عذاب دیکھے گا تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ وہ گمراہی پر تھا، اس وقت کافر یہ آرزو کرے گا کہ کاش! وہ مسلمان ہوتا، لیکن اس وقت یہ آرزو کافر کو کوئی فائدہ نہ دے گی۔ بعض مفسرین کے نزدیک آخرت میں قیامت کے دن کی سختیاں ، ہولناکیاں ،اپنا دردناک انجام اور برا ٹھکانہ دیکھ کر کفار یہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔ زجاج کا قول ہے کہ کافر جب کبھی اپنے عذاب کے احوال اور مسلمانوں پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت دیکھیں گے توہر مرتبہ آرزو کریں گے کہ  کاش وہ دنیا میں مسلمان ہوتے۔ مفسرین کا مشہور قول یہ ہے کہ جب گناہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکالا جا رہا ہو گا تو اس وقت کفار یہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے۔ (1)
	اس مشہور قول کی تائید اس حدیثِ پاک سے بھی ہوتی ہے ،چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جب جہنم والے جہنم میں جمع ہوں گے اور ان کے ساتھ وہ مسلمان بھی ہو ں گے جو مَشِیَّت ِ الٰہی سے وہاں ہوں گے تو کفار (مسلمانوں کوعار دلاتے ہوئے) کہیں گے ’’تمہارے اسلام نے تم سے کون سا عذاب دور کر دیا ہے؟تم بھی تو ہمارے ساتھ جہنم میں آ گئے ہو۔ مسلمان کہیں گے ’’ہمارے گناہ تھے جن کی وجہ سے ہماری گرفت کی گئی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کی باتیں سن کر حکم فرمائے گا’’جو مسلمان جہنم میں ہیں انہیں جہنم سے نکال لو۔ چنانچہ جب مسلمانوں کو جہنم سے نکالا جا رہا ہوگا تو اس وقت کفار حسرت سے یہ کہیں گے کہ کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے تو جس طرح انہیں جہنم سے نکال لیا گیا ہے اسی طرح ہمیں بھی جہنم سے نکال لیا جاتا۔ اس کے بعد رسول اکرم صَلَّی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۲، ۳/۹۳-۹۴۔