Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
201 - 601
کے حالات بیان کئے گئے کہ اس دن زمین کو دوسری زمین سے اور آسمانوں کو بدل دیا جائے گا اور تمام لوگ ایک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حضور نکل کھڑے ہوں گے جو سب پر غالب ہے اور اس دن تم مجرموں کو بیڑیوں میں ایک دوسرے سے بندھا ہوا دیکھو گے ،ان کے کُرتے تارکول کے ہوں گے اور ان کے چہروں کو آ گ ڈھانپ لے گی۔ اور سورۂ حِجْرکی ابتداء میں بیان کیاگیا کہ جب ان مجرموں کوجہنم میں لمبا عرصہ گزر جائے گا اور وہ گناہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکلتا ہوا دیکھیں گے تو اس وقت وہ بہت آرزوئیں کریں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے۔ (1)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ ﴿﴾
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزالعرفان:اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
الٓرٰ ۟ تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ وَقُرْاٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۱﴾ترجمۂکنزالایمان: یہ آیتیں ہیں کتاب اور روشن قرآن کی۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: الر، یہ کتاب اور روشن قرآن کی آیتیں ہیں ۔
{الٓرٰ:} یہ حروفِ مُقَطَّعات میں سے ایک حرف ہے،اس کی مراد اللّٰہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
{تِلْکَ:یہ۔} اس آیت میں’’تِلْکَ‘‘ سے ا س سورت کی آیتوں کی طرف اشارہ ہے اور کتاب اور قرآن مبین سے وہ کتاب مراد ہے جس (کو نازل کرنے)کا اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے وعدہ فرمایا ہے۔(2)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تناسق الدرر، سورۃ الحجر، ص۹۷۔
2…تفسیر کبیر، الحجر، تحت الآیۃ: ۱، ۷/۱۱۶۔