کرتے رہیں گے ، جب یہ ان کے کچھ نہ کام آئے گی تو کہیں گے ’’اب صبر کر کے دیکھو ،شاید اس سے کچھ کام نکلے،چنانچہ پانچ سو برس صبر کریں گے ،جب وہ بھی ان کے کام نہ آئے گا تو کہیں گے کہ اب ہم پر برابر ہے کہ بے قراری کا اظہار کریں یا صبر کریں، ہمارے لئے کہیں کوئی پناہ گاہ نہیں۔ (1)
وَقَالَ الشَّیۡطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الۡاَمْرُ اِنَّ اللہَ وَعَدَکُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدۡتُّکُمْ فَاَخْلَفْتُکُمْ ؕ وَمَا کَانَ لِیَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنۡ دَعَوْتُکُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیۡ ۚ فَلَا تَلُوۡمُوۡنِیۡ وَلُوۡمُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِکُمْ وَمَاۤ اَنۡتُمْ بِمُصْرِخِیَّ ؕ اِنِّیۡ کَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَکْتُمُوۡنِ مِنۡ قَبْلُ ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۲۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور شیطان کہے گا جب فیصلہ ہوچکے گا بیشک اللّٰہ نے تم کو سچا وعدہ دیا تھا اور میں نے جو تم کو وعدہ دیا تھا وہ میں نے تم سے جھوٹا کیا اور میرا تم پر کچھ قابو نہ تھا مگر یہی کہ میں نے تم کو بلایا تم نے میری مان لی تو اب مجھ پر الزام نہ رکھو خود اپنے اوپر الزام رکھو نہ میں تمہاری فریاد کو پہنچ سکوں نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکو وہ جو پہلے تم نے مجھے شریک ٹھہرایا تھا میں اس سے سخت بیزار ہوں بیشک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب فیصلہ ہوجائے گا تو شیطان کہے گا:بیشک اللّٰہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے جو تم سے وعدہ کیا تھاوہ میں نے تم سے جھوٹا کیا اور مجھے تم پر کوئی زبردستی نہیں تھی مگر یہی کہ میں نے تمہیں بلایا توتم نے میری مان لی تو اب مجھے ملامت نہ کرو اور اپنے آپ کو ملامت کرو ۔نہ میں تمہاری فریاد کو پہنچ سکتا ہوں اور نہ ہی تم میری فریاد کو پہنچنے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ1…صاوی، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۲۱، ۳/۱۰۱۹،خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۲۱، ۳/۷۹-۸۰، مدارک، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۲۱، ص۵۶۷، ملتقطاً۔