Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
163 - 601
فَہَلْ اَنۡتُمۡ مُّغْنُوۡنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللہِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ قَالُوۡا لَوْ ہَدٰىنَا اللہُ لَہَدَیۡنٰکُمْ ؕ سَوَآءٌ عَلَیۡنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنۡ مَّحِیۡصٍ ﴿٪۲۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور سب اللّٰہ کے حضور علانیہ حاضر ہوں گے تو جو کمزور تھے وہ بڑائی والوں سے کہیں گے ہم تمہارے تابع تھے کیا تم سے ہوسکتا ہے کہ اللّٰہ کے عذاب میں سے کچھ ہم پر سے ٹال دو کہیں گے اللّٰہ ہمیں ہدایت کرتا تو ہم تمہیں کرتے ہم پر ایک سا ہے چاہے بے قراری کریں یا صبر سے رہیں ہمیں کہیں پناہ نہیں۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور سب اللّٰہ کے حضور اعلانیہ حاضر ہوں گے تو جو کمزور تھے بڑے لوگوں سے کہیں گے : ہم تمہارے تابع تھے توکیا تم اللّٰہ کے عذاب میں سے کچھ ہم سے دور کرسکتے ہو۔وہ کہیں گے: اگر اللّٰہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم تمہیں بھی ہدایت دیدیتے ۔ (اب) ہم پر برابر ہے کہ بے قراری کا اظہار کریں یا صبرکریں۔ہمارے لئے کہیں کوئی پناہ گاہ نہیں۔ 
{وَبَرَزُوۡا لِلہِ جَمِیۡعًا:اور سب اللّٰہ کے حضور اعلانیہ حاضر ہوں گے۔}اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کفار کے آپس میں اور شیطان کے ساتھ بحث کرنے کی خبر دی ہے ۔ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن سب اپنی قبروں سے نکل کر اللّٰہ تعالیٰ کے حضور اعلانیہ حاضر ہوں گے تاکہ اللّٰہ تعالیٰ ان سے حساب لے اور ان کے اعمال کے مطابق انہیں جزا دے ،تواس وقت وہ لوگ جو کمزور تھے اور دولت مندوںاور بااثر لوگوں کی پیروی میں انہوں نے کفر اختیار کیا تھا، وہ بڑے لوگوں اور قائدین سے کہیں گے کہ دین اور اعتقاد میں ہم تمہارے تابع تھے توکیا تم اس بات پر قادر ہو کہ اللّٰہ تعالیٰ نے جو عذاب ہمارے لئے مقرر فرمایا اس میں سے کچھ ہم سے دور کرسکو۔ ان کایہ کلام تَوبیخ اور عناد کے طور پر ہوگا کہ دنیا میں تم نے ہمیں گمراہ کیا تھا اور راہِ حق سے روکا تھا اور بڑھ بڑھ کر باتیں کیا کرتے تھے، اب تمہارے وہ دعوے کہاں گئے، اب اس عذاب میں سے ذرا سا توٹال دو ۔ کافروں کے سردار اس کے جواب میں کہیں گے ’’اگر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ہمیں دنیا میں ایمان کی ہدایت دیتا تو ہم تمہیں بھی ہدایت دیدیتے ،جب خود ہی گمراہ ہو رہے تھے تو تمہیں کیا راہ دکھاتے، اب خلاصی کی کوئی صورت نہیں، نہ کافروں کے لئے شفاعت، آؤ ،روئیں اور فریاد کریں، چنانچہ پانچ سوبرس فریاد اور گریہ و زاری