Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
159 - 601
’’وَ سُقُوۡا مَآءً حَمِیۡمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَہُمْ‘‘(1) 
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور انہیں کھولتا پانی پلایا جائے گا تووہ ان کی آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردے گا؟
	اور ارشاد فرمایا
’’وَ اِنۡ یَّسْتَغِیۡثُوۡا یُغَاثُوۡا بِمَآءٍ کَالْمُہۡلِ یَشْوِی الْوُجُوۡہَ ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ ؕ وَسَآءَتْ مُرْتَفَقًا‘‘ (2)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور اگروہ پانی کے لیے فریاد کریں تو ان کی فریاد اس پانی سے پوری کی جائے گی جو پگھلائے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا جو ان کے منہ کوبھون دے گا۔ کیا ہی برا پینا ہے ۔ اور دوزخ کیا ہی بری ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ (3)
اہلِ جنت اور اہلِ جہنم کو کبھی موت نہ آئے گی:
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ جہنم میں شدید ترین عذابات میں مبتلا ہونے کے باوجود جہنمیوں کو موت نہیں آئے گی، موت سے متعلق حضرت عبداللّٰہبن عمر  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو موت کو لایا جائے گا یہاں تک کہ اسے جنت اور جہنم کے درمیان رکھ دیا جائے گا، پھر اسے ذبح کر دیا جائے گا، اس کے بعد ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ اے اہلِ جنت! تمہیں موت نہیں اور اے اہلِ جہنم ! تمہیں موت نہیں ۔ چنانچہ اہلِ جنت کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہے گا اور اہلِ جہنم کے غم کا کوئی اندازہ نہ کر سکے گا۔ (4) ’’ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَمِنْ غَضَبِ الْجَبَّارِ‘‘ یعنی ہم جہنم کے عذاب اور غضبِ جبار سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں۔
مَثَلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمْ اَعْمَالُہُمْ کَرَمَادِۣ اشْتَدَّتْ بِہِ الرِّیۡحُ فِیۡ یَوْمٍ عَاصِفٍ ؕ لَا یَقْدِرُوۡنَ مِمَّا کَسَبُوۡا عَلٰی شَیۡءٍ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…سورۃ محمد:۱۵۔	2…الکہف۲۹۔
3…ترمذی، کتاب صفۃ جہنّم، باب ما جاء فی صفۃ شراب اہل النار، ۴/۲۶۲، الحدیث: ۲۵۹۲۔
4…بخاری، کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنّۃ والنار، ۴/۲۶۰، الحدیث: ۶۵۴۸۔