گئے اور بولے ہم منکر ہیں اس کے جو تمہارے ہاتھ بھیجا گیا اور جس راہ کی طرف ہمیں بلاتے ہو اس میں ہمیں وہ شک ہے کہ بات کھلنے نہیں دیتا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تمہارے پاس ان لوگوں کی خبریں نہ آئیں جو تم سے پہلے تھے (یعنی) نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور جو ان کے بعد ہوئے جنہیں اللّٰہ ہی جانتا ہے ۔ان کے پاس ان کے رسول روشن دلائل لے کر تشریف لائے تو وہ اپنے ہاتھ اپنے منہ کی طرف لے گئے اورکہنے لگے : ہم اس کے ساتھ کفر کرتے ہیں جس کے ساتھ تمہیں بھیجا گیا ہے اور بیشک جس راہ کی طرف تم ہمیں بلارہے ہو اس کی طرف سے ہم دھوکے میں ڈالنے والے شک میں ہیں۔
{اَلَمْ یَاۡتِکُمْ نَبَؤُا الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبْلِکُمْ:کیا تمہارے پاس ان لوگوں کی خبریں نہ آئیں جو تم سے پہلے تھے۔}اس آیت سے مقصود یہ ہے کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سابقہ قوموں کی ہلاکت و بربادی کے واقعات سے اپنی امت کو ڈرائیں تاکہ وہ عبرت حاصل کریں۔ (1)
نوٹ: حضرت نوحعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم،قومِ عاد اور ثمود کی ہلاکت و بربادی کے واقعات سورۂ اَعراف اور سورہ ٔ ہود میں گزر چکے ہیں۔
{وَالَّذِیۡنَ مِنۡۢ بَعْدِہِمْ:اور جو ان کے بعد ہوئے۔} ان تینوں امتوں کے بعد کچھ امتیں ایسی گزری ہیں جن کی تعداد اللّٰہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کیونکہ اس کا علم ہر چیز کا اِحاطہ کئے ہوئے ہے۔ ہمیں ان کے بارے میں اصلاً کوئی خبر نہیں پہنچی۔ (2)
{فَرَدُّوۡۤا اَیۡدِیَہُمْ فِیۡۤ اَفْوَاہِہِمْ:تو وہ اپنے ہاتھوں کو اپنے منہ میں لے گئے۔} حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ وہ غصہ میں آکر اپنے ہاتھ کاٹنے لگے ۔حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا کہ انہوں نے کتابُ اللّٰہ سن کر تعجب سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھے۔ غرض یہ کوئی نہ کوئی انکار کی ادا تھی۔ (3)
قَالَتْ رُسُلُہُمْ اَفِی اللہِ شَکٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرْضِ ؕ یَدْعُوۡکُمْ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۹، ۷/۶۸، ملخصاً۔
2…خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۹، ۳/۷۶۔
3…خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۹، ۳/۷۶، ملخصاً۔