Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
136 - 601
ان مقابلوں میں ہر طرح کی چالیں چلیں لیکن پھر بھی ناکام و نامراد ہوئے کیونکہ اصل تدبیر کا مالک تواللّٰہ تعالیٰ ہی ہے  پھر اس کی مشیت کے بغیرکسی کی کیا چل سکتی ہے اور جب حقیقت یہ ہے تو مخلوق کا کیا اندیشہ۔  
وَیَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَسْتَ مُرْسَلًا ؕ قُلْ کَفٰی بِاللہِ شَہِیۡدًۢا بَیۡنِیۡ وَبَیۡنَکُمْ ۙ وَمَنْ عِنۡدَہٗ عِلْمُ الْکِتٰبِ ﴿٪۴۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور کافر کہتے ہیں تم رسول نہیں تم فرماؤ اللّٰہ گواہ کافی ہے مجھ میں اور تم میں اور وہ جسے کتاب کا علم ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کافر کہتے ہیں: تم رسول نہیں ہو۔ تم فرماؤ: میرے اور تمہارے درمیان اللّٰہ کافی گواہ ہے اور ہر وہ آدمی گواہ ہے جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔
{وَیَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا:اور کافر کہتے ہیں۔} جب کفار نے حضورِ اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہونے کا انکار کیا تو اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اپنی نبوت کا انکار کرنے والے کافروں سے فرما دیں کہ میرے اور تمہارے درمیان اللّٰہ تعالیٰ گواہ کافی ہے جس نے میرے ہاتھوں میں غالب کر دینے والے معجزات اورنشانیاں ظاہر فرمائیں اور ان کے ذریعے میرے نبی ہونے کی شہادت دی نیز میری نبوت پر ہر اُس آدمی کی گواہی کافی ہے جس کے پاس کتاب کا علم ہے خواہ وہ یہودیوں کے علماء میں سے توریت کا جاننے والا ہو یا عیسائیوں میں سے انجیل کا عالم ،وہنبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت کو اپنی کتابوں میں دیکھ کر جانتا ہے، اِن علماء میں سے اکثر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی رسالت کی گواہی دیتے ہیں۔ (1)
علم کی افضلیت:
	اللّٰہ تعالیٰ نے علما کی گواہی اپنے ساتھ بیان فرمائی،اس سے علم کی افضلیت معلوم ہوئی ،اس کے علاوہ اور آیات میں بھی اللّٰہ تعالیٰ نے علم کی افضیلت کو بیان فرمایا ہے ،چنانچہ ایک مقام پر ارشاد فرمایا 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۴۳، ۳/۷۳۔