کی بجائے اسے ہی دوبارہ دہراتے نظر آ رہے ہیں۔ حضرت عبداللّٰہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس امت میں پانچ مخصوص لوگوں کی طرف سے فساد آئے گا۔ (1) علمائ۔ (2) مجاہدین۔ (3) زُہاد۔ (4) تُجار۔ (5) حکمران۔ علماء انبیاء کے وارث ہیں، زہاد زمین کے ستون ہیں، مجاہدین زمین میں اللّٰہ تعالیٰ کے لشکر ہیں، تجار امت میں اللّٰہ تعالیٰ کے امین ہیں اور حکمران چرواہے ہیں تو جب عالم، دین کو نیچے اور مال کو اوپر رکھے گا تو پھر جاہل کس کی پیروی کرے گا اور جب زاہد، دنیا کی طرف راغب ہوگا تو توبہ کرنے والا کس کی پیروی کرے گا اور جب غازی لالچ میں پڑ جائے گا تو وہ دشمن پر کامیابی کیسے حاصل کرے گا اور جب تاجر خیانت کرنے لگے گا تو امانت کیسے حاصل ہو گی اور جب چرواہا ہی بھیڑیا بن جائے گا تو چرنے والے کیسے ملیں گے۔ (1)
وَقَدْ مَکَرَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبْلِہِمْ فَلِلّٰہِ الْمَکْرُ جَمِیۡعًا ؕ یَعْلَمُ مَا تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ ؕ وَسَیَعْلَمُ الْکُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَی الدَّارِ ﴿۴۲﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور ان سے اگلے فریب کرچکے ہیں تو ساری خفیہ تدبیر کا مالک تو اللّٰہ ہی ہے جانتا ہے جو کچھ کوئی جان کمائے اور اب جاننا چاہتے ہیں کافر کسے ملتا ہے پچھلا گھر۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور ان سے پہلے لوگ فریب کرچکے ہیں تو ساری خفیہ تدبیر کا مالک تو اللّٰہ ہی ہے ۔وہ جانتا ہے جو کچھ کوئی جان عمل کمائے اور عنقریب کافر جان لیں گے کہ آخرت کا اچھا انجام کس کے لئے ہے؟
{وَقَدْ مَکَرَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبْلِہِمْ:اور ان سے پہلے لوگ فریب کرچکے ہیں۔} اس آیت میں رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دیتے ہوئے اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ مشرکینِ مکہ سے پہلے گزری ہوئی اُمتوں کے کفار اپنے انبیاءِکرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ مقابلہ کرچکے ہیں جیسے نمرود نے حضرت ابراہیمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ، فرعون نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ساتھ اور یہودیوں نے حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ مقابلہ کیا اور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح البیان، الرعد، تحت الآیۃ: ۴۱، ۴/۳۸۹۔