کے شر سے جب وہ مجھ سے جلے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: میں صبح کے رب کی پناہ لیتا ہوں ۔اس کی تمام مخلوق کے شر سے۔اورسخت اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھاجائے۔اور ان عورتوں کے شر سے جو گرہوں میں پھونکیں مارتی ہیں ۔اور حسد والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔
{قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ: تم فرماؤ: میں صبح کے رب کی پناہ لیتا ہوں ۔} پناہ مانگنے میں اللّٰہ تعالیٰ کا اس وصف’’ صبح کے رب‘‘ کے ساتھ ذکر اس لئے ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ صبح پیدا کرکے رات کی تاریکی دور فرماتا ہے تو وہ ا س پر بھی قادر ہے کہ پناہ چاہنے والے سے وہ حالات دور فرما دے جن سے اسے خوف ہو، نیز جس طرح تاریک رات میں آدمی صبح طلوع ہونے کا انتظار کرتا ہے اسی طرح خوف زدہ آدمی امن اور راحت کا منتظر رہتا ہے۔ اس کے علاوہ صبح مجبور ولاچار لوگوں کی دعاؤں کا اور ان کے قبول ہونے کا وقت ہے تواس آیت سے مراد یہ ہوئی کہ جس وقت کَرب اور غم والوں کو آسانیاں دی جاتی ہیں اور دعائیں قبول کی جاتی ہیں ،میں اُس وقت کو پیدا کرنے والے کی پناہ چاہتا ہوں ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ’’ فَلق‘‘ جہنم میں ایک وادی ہے۔ (خازن، الفلق، تحت الآیۃ: ۱، ۴/۴۲۹-۴۳۰)
{مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ: اس کی تمام مخلوق کے شر سے۔} اس آیت میں ہر مخلوق کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے ،خواہ جاندار ہو یا بے جان، مُکَلّف ہو یا غیر مُکَلّف اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہاں مخلوق سے مراد خاص ابلیس ہے جس سے بدتر مخلوق میں کوئی نہیں۔( خازن، الفلق، تحت الآیۃ: ۲، ۴/۴۳۰)
{وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ: اورسخت اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھاجائے۔} اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے چاند کی طرف نظر کرکے ان سے فرمایا ، اے عائشہ! رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ،اس کے شر سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ، یہ جب ڈوب جائے تواندھیراہو جاتاہے ۔( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ المعوّذتین، ۵/۲۴۰، الحدیث: ۳۳۷۷) اس سے مراد مہینے کی آخری راتیں ہیں جب چاند چھپ جاتا ہے تو جادو کے وہ عمل جو بیمار کرنے کے لئے ہیں اسی وقت میں