سورۂ کوثر
سورۂ کوثر کا تعارف
مقامِ نزول:
علامہ علی بن محمد خازن رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’سورۂ کوثر جمہور مفسرین کے نزدیک مکیہ ہے اور بعض مفسرین کے نزدیک مدنیہ ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ الکوثر، ۴/۴۱۳)
رکوع اور آیات کی تعداد:
اس سورت میں 1رکوع، 3 آیتیں ہیں ۔
’’کوثر ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
کوثر سے دنیا اور آخرت کی بے شمار خوبیاں مراد ہیں اور جنت کی ایک نہر کا نام بھی کوثر ہے۔اس سورت کی پہلی آیت میں یہ لفظ موجود ہے اس مناسبت سے اسے ’’سورۂ کوثر ‘‘کہتے ہیں ۔
سورۂ کوثر کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی مِدحت بیان فرمائی ہے اورا س میں یہ مضامین بیان ہوئے ہیں :
(1) …اس کی پہلی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ کے اس فضل واحسان کا بیان ہے جو اس نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ پر فرمایا۔
(2) …دوسری آیت میں نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے فرمایا گیا کہ اللّٰہ تعالیٰ کے فضل و احسان کے شکریے میں نماز پڑھتے رہیں اور قربانی کریں ۔
(3) …تیسری آیت میں فرمایا گیا کہ جو اللّٰہ تعالیٰ کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کا دشمن ہے وہی ہر خیر سے