Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
838 - 881
وَ  لْیَقُوْلُوْا  قَوْلًا  سَدِیْدًا‘‘ (النساء:۹)
شکار ہوتے۔تو انہیں  چاہیے کہ اللّٰہ سے ڈریں  اور درستبات کہیں ۔ 
	اور ارشاد فرمایا: ’’اِنَّ  الَّذِیْنَ  یَاْكُلُوْنَ  اَمْوَالَ  الْیَتٰمٰى  ظُلْمًا  اِنَّمَا  یَاْكُلُوْنَ  فِیْ  بُطُوْنِهِمْ  نَارًاؕ-وَ  سَیَصْلَوْنَ  سَعِیْرًا‘‘ (النساء:۱۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک و ہ لوگ جو ظلم کرتے ہوئے یتیموں  کا مال کھاتے ہیں  وہ اپنے پیٹ میں  بالکل آ گ بھرتے ہیں اور عنقریب یہ لوگ بھڑکتی ہوئی آگ میں  جائیں  گے۔
	اورحضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’مسلمانوں  میں  بہترین گھر وہ گھر ہے جس میں  یتیم ہو اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہو اور مسلمانوں  میں  بدترین گھر وہ گھر ہے جس میں  یتیم ہو اور ا س کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو ۔( ابن ماجہ، کتاب الادب، باب حقّ الیتیم، ۴/۱۹۳، الحدیث: ۳۶۷۹)
	اورحضرت ابو امامہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے،  رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا ’’ جو کسی یتیم کے سر پر اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہاتھ پھیرے تو اس کے لیے ہر اس بال کے عِوَض نیکیاں  ہوں  گی جس پر اس کا ہاتھ پھرے اور جو اپنے پاس رہنے والے یتیم لڑکے یا یتیم لڑکی سے بھلائی کرے توجنت میں  مَیں  اور وہ ان کی طرح ہوں  گے، اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ اپنی دو انگلیاں  ملائیں  ۔( مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث ابی امامۃ الباہلی... الخ، ۸/۳۰۰، الحدیث: ۲۲۳۴۷)
	کفار کے طرزِ عمل اور اسلام کی تعلیمات کو سامنے رکھتے ہوئے ہر شخص بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ بچوں  کے حقوق کی حفاظت کے لئے جو اِقدامات دین ِاسلام نے کئے اور جو احکامات دین ِاسلام نے دئیے ان کی مثال کسی اور دین میں  نہیں  مل سکتی۔
وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ(۳)