Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
837 - 881
فَذٰلِكَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَۙ(۲)
ترجمۂکنزالایمان: پھر وہ وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر وہ ایسا ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔
{فَذٰلِكَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ: پھر وہ ایسا ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔} یعنی دین کو جھٹلانے والے شخص کا اخلاقی حال یہ ہے کہ وہ یتیم کو دھکتے دیتا ہے۔
یتیموں  کے ساتھ کفار کا سلوک اوران کے بارے میں  اسلام کی تعلیمات:
	اس آیت میں  کفار کا یتیموں  کے ساتھ سلوک بیان کیا گیا جبکہ ا س کے مقابلے یتیموں  کے بارے میں  اسلام کی تعلیمات ملاحظہ کیجئے۔چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ یتیموں  کے سرپرستوں  سے ارشاد فرماتا ہے:  ’’وَ  اٰتُوا  الْیَتٰمٰۤى  اَمْوَالَهُمْ  وَ  لَا  تَتَبَدَّلُوا  الْخَبِیْثَ  بِالطَّیِّبِ   ۪-  وَ  لَا  تَاْكُلُوْۤا  اَمْوَالَهُمْ  اِلٰۤى  اَمْوَالِكُمْؕ-اِنَّهٗ  كَانَ  حُوْبًا  كَبِیْرًا‘‘(النساء:۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یتیموں  کو ان کے مال دیدو اور پاکیزہ مال کے بدلے گندا مال نہ لواور ان کے مالوں  کو اپنے مالوں  میں  ملاکر نہ کھا جاؤ بیشک یہ بڑا گناہ ہے۔ 
	اور ارشاد فرمایا: ’’وَ  لَا  تُؤْتُوا  السُّفَهَآءَ  اَمْوَالَكُمُ  الَّتِیْ  جَعَلَ  اللّٰهُ  لَكُمْ  قِیٰمًا  وَّ  ارْزُقُوْهُمْ  فِیْهَا  وَ  اكْسُوْهُمْ  وَ  قُوْلُوْا  لَهُمْ  قَوْلًا  مَّعْرُوْفًا‘‘(النساء:۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اورکم عقلوں  کوان کے وہ مال نہ دو جسے اللّٰہ نے تمہارے لئے گزر بسر کا ذریعہ بنایاہے اور انہیںاس مال میں  سے کھلاؤ اور پہناؤ اور ان سے اچھی بات کہو۔ 
	اور ارشاد فرمایا: ’’وَ  لْیَخْشَ الَّذِیْنَ  لَوْ  تَرَكُوْا  مِنْ  خَلْفِهِمْ  ذُرِّیَّةً  ضِعٰفًا  خَافُوْا  عَلَیْهِمْ   ۪-  فَلْیَتَّقُوا  اللّٰهَ 
ترجمۂکنزُالعِرفان:  اور وہ لوگ ڈریں جو اگر اپنے پیچھے کمزور اولاد چھوڑ تے تو ان کے بارے میں  کیسے اندیشوں  کا