Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
83 - 881
{لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ: بیشک ان کے دلوں  میں  اللّٰہ سے زیادہ تمہارا ڈر ہے۔} یعنی اے مسلمانو! بیشک ان منافقوں کے دلوں  میں  اللّٰہ تعالیٰ سے زیادہ تمہارا ڈر ہے کہ تمہارے سامنے تو کفر کا اظہار کرنے سے ڈرتے ہیں  اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ اللّٰہ تعالیٰ دلوں  کی چھپی باتیں  جانتا ہے دل میں  کفر رکھتے ہیں ۔ ان کایہ ڈراس لیے ہے کہ وہ ناسمجھ لوگ ہیں ، اللّٰہ تعالیٰ کی عظمت کو نہیں  جانتے ورنہ جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے ویسا اس سے ڈرتے۔( خازن، الحشر، تحت الآیۃ: ۱۳، ۴/۲۵۰، مدارک، الحشر، تحت الآیۃ: ۱۳، ص۱۲۲۶، ملتقطاً)
لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍؕ- بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌؕ-تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰىؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَۚ(۱۴)
ترجمۂکنزالایمان: یہ سب مل کر بھی تم سے نہ لڑیں  گے مگر قلعہ بند شہروں  میں  یا دُھسوں  کے پیچھے آپس میں  ان کی آنچ سخت ہے تم انہیں  ایک جتھا سمجھو گے اور ان کے دل الگ الگ ہیں  یہ اس لیے کہ وہ بے عقل لوگ ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ سب (مل کر بھی) تم سے نہ لڑیں  گے مگر قلعہ بند شہروں  میں  یا دیواروں کے پیچھے سے،ا ن کی آپس میں  لڑائی بہت سخت ہے۔ تم انہیں  اکٹھا سمجھتے ہو حالانکہ ان کے دل الگ الگ ہیں ، یہ اس لیے کہ وہ بے عقل لوگ ہیں ۔
{لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا: یہ سب (مل کر بھی)  تم سے نہ لڑیں  گے ۔} یعنی اے مسلمانو!سب یہودی مل کر بھی اعلانیہ تم سے نہ لڑیں  گے بلکہ قلعہ بند شہروں  میں  یا دیواروں کے پیچھے چھپ کر لڑیں  گے۔( روح البیان، الحشر، تحت الآیۃ: ۱۴، ۹/۴۴۰-۴۴۱)چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ مدینہ منورہ کے اہلِ کتاب نے کبھی کھلم کھلا مسلمانوں  کے مقابلے کی ہمت نہ کی، بلکہ غزوۂ خندق کے بعد جب مسلمانوں  نے ان کی بد عہدی کی بنا پر ان سے مقابلہ کیا تو وہ اپنے کوچہ بند محلوں  میں  بند ہو کر بیٹھ گئے ،پھر مجبوراً نکلے تو بنوقریظہ قتل اور بنو نضیر جلا وطن کر دئیے گئے،یوں  اللّٰہ تعالیٰ نے جیسا فرمایا تھا ویسا ہی ہوا ۔ خیال رہے کہ یہاں  صرف مدینہ منورہ کے کتابیوں  کا ذکر ہے،